انٹرمیڈیٹ امتحانات کا آج سے آغاز،نقل نویسی پر کریمنل کیس

   

ایک منٹ تاخیر پر داخلہ کی اجازت نہیں‘ایک گھنٹہ قبل امیدوار سنٹر پر پہنچیں

حیدرآباد: 27 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ امتحانات برائے سال اول و دوم کا کل 28 فروری سے آغاز ہوگا۔ امتحانات 19 مارچ تک جاری رہیں گے۔ امتحانات کا وقت صبح 9 تا 12 بجے دن رہے گا۔ تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے امتحانات کے انعقاد کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ فرسٹ اور سیکنڈ ایئر امتحانات میں جملہ 980978 امیدوار حصہ لیں گے۔ فرسٹ ایئر امتحانات میں امیدواروں کی تعداد 478718 ہے جبکہ سیکنڈ ایئر میں 502260 امیدوار شرکت کریں گے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن نے واضح کردیا ہے کہ امیدواروں کو ایک گھنٹہ قبل امتحانی مراکز پہنچنا ہوگا۔ ایک منٹ کی تاخیر پر امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں رہے گی۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کی جانب سے امیدواروں کے لیے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں جس کے تحت وہ امتحان حال میں سیل فون اور کوئی بھی الیکٹرانک گیجٹ نہیں لے جاسکتے۔ امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک گھنٹہ قبل امتحانی مراکز پہنچ جائیں۔ امیدواروں کو 8:45 بجے اپنی نشستیں سنبھال لینی چاہئے اور ٹھیک 9 بجے امتحانی پرچہ حوالے کیا جائے گا۔ امتحانات میں کسی بھی طرح کی بے قاعدگی اور نقل نویسی کو روکنے کے لیے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہیں گے۔ امتحان کے اوقات میں امتحانی مرکز کے اطراف موجود زیراکس سنٹرس کو بند رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امتحانات کے موثر انعقاد کیلئے چیف سپرنٹنڈنٹس اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں اور 27900 انویجلیٹرس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ 75 فلائنگ اسکوائڈس اور 200 سٹنگ اسکوائڈس رہیں گے۔ ریاست بھر میں جملہ 1521 امتحانی مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع کلکٹرس کی نگرانی میں امتحانی مراکز میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ آر ٹی سی کی جانب سے خصوصی بسیں چلائی جائیں گی اور محکمہ برقی کو بلا وقفہ برقی سربراہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ امتحانی مراکز کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نسب کئے گئے ہیں۔ امتحانی مراکز میں فرنیچر کے علاوہ پینے کے پانی کا انتظام رہے گا اور کسی بھی طالب علم کو فرش پر بیٹھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ محکمہ صحت کی جانب سے ہر امتحانی مرکز پر میڈیکل ٹیم تعینات کی جائے گی۔ کالجس کے انتظامیہ کو انتباہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی بے قاعدگی کی صورت میں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نقل نویسی کی صورت میں امیدواروں کے خلاف کریمنل کیس درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ دو امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں اور پرچہ جات کے افشاء کے پیش نظر حکومت نے سخت چوکسی اختیار کی ہے۔ 1