زمین پر ظلم کی مہلت مقرر، اللہ جب چاہے حالات بدل سکتا ہے

   

جامع مسجد عالیہ میں تاریخ اسلام لکچر ، اقبال احمد انجینئر کا خطاب
حیدرآباد /25 فروری ( راست ) امت مسلمہ دنیا کے ہر دور میں مظلوم ہے ۔ حالات اتنے سنگین ہیں ایک چھوٹی زمین کی پٹی پر 25 ہزار ٹن بم گرائے گئے ۔ بتیس ہزار شہید کردئے گئے جس میں اکثر بچے اور عورتیں ہیں۔ 57 اسلامی ممالک جن کے پاس 60 فیصد دنیاوی وسائل ہیں اور عالمی معیشت پر ان کا قبضہ ہے لیکن سب خاموش ہیں۔ کوئی مدد کو نہیں آتا ۔ جنگ مسلط کردی گئی لیکن نہ جذبہ ایمانی ابھرتا ہے اور نہ حمیت اسلامی میں جنبش ہوتی ہے ۔ انہیں کیا کہا جائے ۔ کمزور ایمان والے یہ عمل کے اعتبار سے نفاق کا شکار ، انتہائی مظلومیت کا شکار یہ امت اس حکم کو بھول گئی ۔ اس جم غفیر سے نہ ڈرو ، بس اللہ سے ڈرو ، سچ تو یہ ہے کہ اس امت کی قیادت خوفزدہ ہے ۔ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کوشاں ، اللہ کو بھول گئی ۔ وہ یہ چاہتی ہے اس کی دولت ، شہرت ، طاقت جو سب عارضی ہے وہ بچی رہے لیکن ایمان کی دولت اگر کھوتی ہے تو کھو جائے ۔ کیا آخرت کا خوف دل سے نکل گیا ہے ؟ ہر سطح پر سکوت کیوں ہے ؟ ان خیالات کا اظہار اقبال احمد انجینئر نے کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ ، گن فاؤنڈری میں تاریخ اسلام لکچر کی 1030 ویں نشست بعنوان ’’ کیا حالات بدلیں گے ؟ ‘‘ میں کیا ۔ نشست کا آغاز حافظ محمد تنویر عالم کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ مقرر نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کیا انہیں یاد نہیں کہ حضرت داؤد علیہ اسلام نے جالوت کو قتل کیا تھا یہ سنت الہی ہے ۔ جب ظلم بڑھ جاتا ہے ظالم کے اقتدار کو ہٹا دیا جاتا ہے اس کا اقتدار سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے ۔ اس طرح خالق واحد جس کے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں ۔ مطلق قادر و قاہر ہے زمین پر ظلم کی مہلت رکھی ہے اور انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعہ سے ہٹا تا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا ، لیکن دنیا کے لوگوں پر خدا واحد کا بڑا فضل ہے کہ وہ اس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے ۔ دنیا میں صرف دو گروہ ہیں ایک اللہ کو ماننے والا اور دوسرا نفس کے شہوات میں مبتلا اپنے خالق کے خلاف جانے والا ۔ امت مسلمہ کو بڑی خوشخبری کہ اللہ کو حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔ جب وہ ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا پس ہوجاتا ہے ۔ جناب محمد ضیاء الدین محمود نے مقرر کا تعارف کروایا ۔ آخر میں دعاء پر محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔