سعودی عرب میں خواتین کارکنوں کا تناسب 30.6فیصد

ملک میں نئے ملک سلمان کے برسراقتدار آنے پر انقلابی تبدیلیاں اور اصلاحات
ابھا ۔7اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) 2018ء کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر نجی اداروں کے سعودی کارکنان میں خواتین کا تناسب 30.6فیصد تک پہنچ گیا۔یہ تناسب 1.9ملین ملازمتوں سے اخذ کیا گیا ہے۔الوطن اخبار کے مطابق انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کمپنی ’’میکنزی‘‘ نے توقع ظاہر کی ہے کہ نجی اداروں کے سعودی کارکنان میں خواتین کا تناسب 21فیصد تک پہنچ جائیگا۔ملازمتوں میں مرد و زن کے درمیان مساوات کے امکانات مزید بہتر ہونگے۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں کمپنیاں تنخواہیں بہتر کریں گی۔محکمہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نجی اداروں میں ملازمتوں کی تعداد سرکاری اداروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ شہری خدمات کے دائرے میں کام کرنے والے سعودیوں کی مجموعی تعداد 1.18ملین ہوچکی ہے۔ سوشل انشورنس کے تحت آنے والے سعودی ملازمین کی تعداد 1.9ملین ہوچکی ہے۔ ان میں 1.33ملین ملازم مرد اور 5لاکھ92ہزار خواتین ہیں۔انٹرنیشنل اکنامک فورم کے مطابق مشرق وسطی میں ڈیوٹی کے لئے مرد و زن کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔ یہ مشرق وسطی? کے کلچر کا حصہ ہے۔ اس پر ان دنوں بحث مباحثہ چل رہا ہے۔ ملازم مرد و خواتین کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کرنے کی وجہ سے بہت سارے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مشرق وسطی میں سرگرم کمپنیوں کے کلیدی عہدے زیادہ سے زیادہ خواتین کو دیئے جارہے ہیں تاکہ خواتین کو انکا حق دلانے میں آسانی ہو۔انٹرنیشنل اکنامک فورم نے ملازم خواتین و حضرات کے درمیان دفاتر میں مساوات کے فروغ کیلئے 5اقدام تجویز کئے ہیں۔ اہم ترین یہ ہے کہ باصلاحیت ملازم رکھے جائیں۔ اس سلسلے میں مرد و زن کی تفریق نہ کی جائے۔ ملازمت کیلئے تربیتی پروگرام کرائے جائیں۔ اس سلسلے میں بھی مرد و زن کے درمیان امتیاز نہ برتا جائے۔

TOPPOPULARRECENT