عدالت نے 15 ستمبر کو بھاردواج کو تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی تھی اور کہا تھا کہ باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت ان کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھا جائے گا۔
نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے منگل، 6 اکتوبر کو ہندوتوا کارکن سواتنتر بھاردواج کو باقاعدہ ضمانت دے دی۔ یہ مقدمہ جنتر منتر پر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم کارکن کے والد پر مبینہ حملے سے متعلق ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ سنگھ لالر نے یہ حکم اس وقت جاری کیا جب اس سے قبل بھاردواج کو تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی اور اس عرصے کے دوران ان کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا گیا تھا۔
ضمانت کے تفصیلی حکم نامے کا انتظار ہے۔
عدالت نے 15 ستمبر کو بھاردواج کو تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی تھی اور کہا تھا کہ باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت ان کے طرزِ عمل کو مدنظر رکھا جائے گا۔
عبوری ریلیف دیتے ہوئے عدالت نے بھاردواج پر کئی شرائط عائد کی تھیں، جن میں یہ ہدایت بھی شامل تھی کہ وہ سوشل میڈیا یا کسی بھی دوسرے میڈیا پلیٹ فارم پر اس مقدمے، اپنے دفاع یا شکایت کنندہ کے خاندان کے بارے میں کوئی پوسٹ نہ کریں، کوئی چیز شائع نہ کریں اور نہ ہی اس پر بحث کریں۔
انہیں یہ ہدایت بھی کی گئی تھی کہ وہ شکایت کنندہ، ان کی بیٹی نشو آزاد یا کسی گواہ سے رابطہ نہ کریں اور مقدمے کے شواہد میں کوئی مداخلت نہ کریں۔
عبوری ضمانت دیتے وقت عدالت نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ضمانت عدالت کے اعتماد کا اظہار ہے اور “نمائش کے لیے کوئی ٹرافی نہیں”۔
عدالت نے بھاردواج کو ضمانت پر رہائی کے بعد کسی بھی قسم کا عوامی جشن منانے سے بھی خبردار کیا تھا۔
یہ مقدمہ جنتر منتر پر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے زیر اہتمام احتجاج کے دوران ایک طالب علم کارکن کے والد پر مبینہ حملے سے متعلق ہے۔