حلقہ ملکاجگیری سے بھائی کے مقابلہ کرنے کی اطلاعات مسترد، خاندانی افراد کو عہدے دینے کی مخالفت
حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا انتخابات حکومت کی تین ماہ کی کارکردگی کا ریفرنڈم ثابت ہوں گے اور میرے پریوار کا کوئی فرد لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ نہیں کرے گا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے گذشتہ یوم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران یہ بات کہی اور ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ ان کے بھائی حلقہ لوک سبھا ملکاجگری سے مقابلہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ کے خاندان کی طرح میں اپنے افراد خاندان کو عہدوں دیئے جانے پر یقین نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس غیر رسمی بات چیت کے دوران سابقہ حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے ریاست کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے ان سے ریاست کو محفوظ کرنے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اڈانی کی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے متعلق استفسار پر کہا کہ انہوں نے اڈانی کو کچھ دیا نہیں ہے بلکہ ان سے ریاست میں سرمایہ کاری کروائی ہے۔ انہو ںنے کے سی آر ‘ کے ٹی آر اور ہریش راؤ سے استفسار کیا کہ آیا وہ اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ اگر ان کی بات ماننے سے کالیشورم پراجکٹ کے تینوں بیاریج میدی گڈہ ‘ انارم اور سندیلا جیسے ہیں ویسے رہیں گے!چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں لوک سبھا کی نشستوں کی تقسیم اور بی آرایس کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی سے یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ بھارت راشٹرسمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے سلسلہ میں اتحاد ہوچکا ہے اور بی آر ایس تلنگانہ میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈاکٹر کے لکشمن رکن راجیہ سبھا بی جے پی حکومت تلنگانہ کو گرانے کی بات کر رہے ہیںجو کہ یہ ثابت کر تا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس دونوں کے درمیان مفاہمت ہوچکی ہے۔چیف منسٹر نے نریندر مودی کو ’بڑے بھائی ‘ کہے جانے کے متعلق استفسار پر کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ تمام ریاستوں کے چیف منسٹران کے بڑے بھائی ہیں اور مرکزی حکومت کے سربراہ کو بڑا بھائی کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کچھ کہ لیکن یہ بات تو ہے کہ قومی سطح پر کانگریس کے چیف منسٹر کو منفرد شناخت حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے اڈانی گروپ کی تلنگانہ میں سرمایہ کاری کے متعلق کہا کہ انہوں نے اڈانی کو کوئی ائیر پورٹ یا اراضیات کی تخصیص نہیں کی بلکہ ان سے ریاست میں سرمایہ کاری کروائی ہے تاکہ تلنگانہ میں روزگار کے مواقع میں اضافہ یقینی بنایا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کالیشورم معاملہ میں جامع تحقیقات کو یقینی بنائے گی اور اس معاملہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔3