Sunday , September 22 2019

مشکل وقت میں حکومت کے لئے دیوار بن کر کھڑے ہونے والے دو افیسر

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مندوب سید اکبر الدین اورسری نگر کے ڈپٹی کمشنر شاہد اقبال چودھری ان دنوں سرخیوں میں ہیں۔

ویسے تو سید اکبر الدین کے لئے سرخیوں میں رہنے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے لیکن شاہد اقبال چودھری پہلی مرتبہ قومی سطح پر چرچا میں اس لئے ہیں کہ انہیں سری نگر میں خطرناک حالات میں بھی شاندار طریقے سے مقابلے کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے۔

شاہد اقبال نے یقین دلایا ہے کہ خراب حالات بنے نا پائیں۔ دونوں کے متعلق کچھ جانکاریاں یہاں پر پیش کی جارہی ہیں۔

حیدرآباد۔ کچھ نیاکرتے رہنا پہچان ہے۔ سید اکبرالدین۔
سیداکبرالدین ملک میں نائیک کی طرح تبصرہ میں ہیں۔

اقوام متحدہ میں جس اندازمیں انہوں نے چین او رپاکستان کی کوشش کواپنے انداز سے پیش کیا اس کے بعد ان کی طرف سے ہی ہورہا ہے۔

ویسے یہ پہلی موقع نہیں ہے جب انہوں نے اپنے سفارتی حکمت عملی میں ہوشیار سے ہندوستان کوآگے رکھا ہے۔

پہلی مرتبہ وہ تب ملک میں نظر میں ائے جب وہ خارجی وزرات میں ترجمان بنے تھے۔

بطور ترجمان انہوں نے سفارتی سطح پر ہندوستان میں موقف رکھنے میں ایسے مہارت حاصل کی کہ کئی سنجیدہ موقعوں پر انہیں ہی بھیجا جانے لگا۔

انہیں پہلی بار اس عہدے کو اہم بنانا دیا۔سید اکبرالدین انڈین فارن سرویس میں 1986بیاچ میں آیا۔ وہ 2012-2015کے درمیان خارجی وزرات کے ترجمان رہے۔

اس کے بعد انہیں اقوام متحدہ میں مندوب مقرر کیاگیا۔ جب وہ خارجی وزرات کے ترجمان تھے‘ تب وہ دیر رات تک کسی بھی پیغام کا فوری جواب دیتے تھے۔

میڈیا میں کوئی جانکاری ادھوری نہیں جائے اور ہندوستان کا موقف مضبوطی سے جائے‘ اس کے لئے‘ وہ نہ صرف ہمیشہ الرٹ موڈ میں رہتے ہیں بلکہ اصلاحات بھی کرتے ہیں۔

ایک مرتبہ انہوں نے کہاتھا کہ وہ ترجمان کی حیثیت سے ایک دن میں تین سو سے زائد پیغامات کا جواب دیتے ہیں۔

پچھلی جمعرات کو اقوام متحدہ میں انہوں نے جس طرح پاکستانی صحافیوں سے ہاتھ ملاکر انہیں شرمند ہ کیا‘ وہ بھی ایک تخلیق انداز کا حصہ تھا۔

اس سال مئی میں پاکستان کے جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قراردکرانے کے لئے ہندوستان کی حکمت عملی بنانے کا کام انہوں نے ہی کیاتھا۔

سوشیل میڈیا پر اپنی بات فوری طور پر موثر انداز سے رکھنے والی اکبر الدین نے پوری دنیامیں سفارتی تعلقات کو ایک نیا دور دیا ہے۔

ان کے تخلیقی اقدام کو دوسرے ممالک کے مندوبین نے اس حوالے سے اپنا یا ہے۔

یوگ دیوس کو اقوام متحدہ سے بڑی اکثریت سے نافذ کرانے میں ان کی سفارتی حکمت عملی کو اہم مانا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی کی کو 185ممالک کی جانب سے خراج پیش کرنے کے ویڈیو کی تیاری میں بھی ان کے تعاون کواہم مانا جاتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی جب2014میں اقتدار میں ائے جن چند لوگوں سے سب سے پہلے متاثر ہوئے‘ ان میں اکبر الدین بھی تھے۔

سال 2015میں مودی انہیں اپنے ساتھ پی ایم او کا حصہ بناناچاہتے تھے۔انہیں پی ایم او کا ترجمان بھی بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی‘

لیکن اکبر الدین نے ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ میں تقرر کی خواہش ظاہر کی تو وزیراعظم نے فوری اس کومنظوری دیدی۔

شاہد اقبال چودھری کا ویٹنری ڈاکٹر سے ائی اے ایس تک کا سفر۔


شاہد اقبال چودھری اپنے بلکہ مرکزی حکومت کے بھی سب سے سخت کام کو انجام دے رہے ہیں۔ٹوئٹر پر شاہد کسی بھی افواہ کو وقت رہتے غلط ثابت کردیتے ہیں۔

کسی بھی مسلئے پر ضرورت رہتی ہے تو فوری ردعمل پیش کرتے ہیں۔وادی میں تیزی کے ساتھ حالات کی تبدیلی او رساری دنیا کی وہاں پر نظر کے دوران شاہد نے یقینی بنایا کہ وادی میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ ائے۔

وہ حکومت کی سب سے اہم اور ضروری آواز بنے ہیں۔ سال2009کے یو پی ایس سی امتحانات میں وہ 51واں رینک لے کر سیول سرویس میں ائے۔

وہ سرحد کے پاس میں واقعہ ایک گاؤں کے رہنے والے اور جموں کشمیر میں گجر مسلم سماج سے تعلق رکھنے والے پہلے ائی اے ایس افیسر ہیں۔

شاہد کی تعلیم جموں میں ہوئی۔ ویٹنری ڈاکٹر بنے اور بعد میں انڈین فارسٹ سرویس میں منتخب ہوئے اپنی ہی ریاست کا انتخاب کیا۔مگر اصلی چاہت سیول سرویس میں منتخب ہوکر لوگوں کی خدمت کرنا تھا‘ جو سال 2009میں پوری ہوئی۔

جموں کے مضافاتی علاقے کے گاؤں میں رہنے والے شاہد کے والدریاستی حکومت کے محکمہ مال میں تھے۔

بچپن میں 16کیلومیٹر دور اسکول میں پڑھنے کے لئے جانے پڑتاتھا۔ شاہد نے انگریزی حرف تہجی بارہ سال میں پہلی مرتبہ سنا۔

لیکن بعد میں وہ دیش کے سب سے مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی ان کے کام سے متاثر رہے ہیں۔

پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے دو مرتبہ گورنرس کی سطح پر مرکزی حکومت کی جانب سے اعزاز ملا ہے۔ بیٹی بچاؤ پروگراموں میں ان کے پروگریس کو بھی سراہنا ملی تھی۔

کتھوا میں انہوں نے جو کام کیاتھا اس کی سراہنا وزیراعظم نریندر مودی نے برسرعام کی تھی۔

وہیں انہوں نے پراجکٹ تعاون اس وقت شروع کیاتھا جب 2014میں پاکستان کی جانب سے لگاتافائیرنگ کی جارہی تھی او رسرحدی علاقوں میں رہنے والے بیس ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔

انہوں نے دہشت گرد ی سے متاثر لوگوں کو مرکزی دھاری میں لانے کی مہم کی شروعات کی اور 2014کے عام انتخابات میں ووڈ دینے کے لئے انہیں حوصلہ دلایا‘ جس کی وجہہ سے ان کے ضلع میں رائے دہی کا تناسب 33فیصد سے بڑھ کر 81فیصد ہوگیا۔

لوگوں سے سیدھے جڑ کر کام کرنا ان کی طاقت بنی اورسری نگر میں سب سے مشکل حالات میں اپنی اس خوبی کی بدولت وہ حکومت کے مشکل حالات میں دیوار بن کر کھڑے والے کے طور پر سامنے ائے۔

TOPPOPULARRECENT