نئی دہلی ۔24؍مئی ( ایجنسیز )نیٹ۔یوجی 2026 پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی معاملے میں گرفتار ملزم شبھم کھیرنار کو ریمانڈ ختم ہونے کے بعد اتوار24 مئی کو سی بی آئی نے دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا۔ ملزم کو اسپیشل جج روچی اگروال اسرانی کی عدالت میں پیش کیا گیاجہاں عدالت نے اسے 6 جون تک عدالتی حراست میں بھیج دیا۔سی بی آئی کے مطابق شبھم کھیرنار مہاراشٹرا کے ناسک ضلع کے نندگاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس نے مدھیہ پردیش کی شری ستیا سائی یونیورسٹی سے بی اے ایم ایس (آیوروید) کی پڑھائی کی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ شبھم نے پونے کے ایک مشتبہ شخص سے نیٹ کا پیپر 10 لاکھ روپے میں خریدا تھا اور بعد میں اسے ہریانہ کے ایک خریدار کو 15 لاکھ روپے میں فروخت کر دیا۔غورطلب ہے کہ سی بی آئی نے 13 مئی کو ناسک سے شبھم کھیرنار کو گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل 20 مئی کو راؤز ایونیو کورٹ نے اس کی 5 دن کی سی بی آئی کسٹڈی بڑھا دی تھی۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار دیگر 5 ملزمان فی الحال 2 جون تک عدالتی حراست میں ہیں۔سی بی آئی نے اب تک پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی کے الزام میں مجموعی طور پر 6 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں ناسک کے شبھمن کھیرنار، جے پور کے منگی لال بِوال، وکاس بوال اور دنیش بوال، گروگرام کے یش دیال اور مہاراشٹرا کے اہلیہ نگر کے دھننجے لوکھنڈے شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی امتحان میں پیپر لیک اور بے ضابطگی کے الزامات سامنے آئے تھے جس کے بعد معاملے نے طول پکڑ لیا۔ سی بی آئی اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ پیپر لیک کے پیچھے کون سا نیٹورک یا سنڈیکیٹ کام کر رہا تھا اور اس میں کون کون سے لوگ شامل ہیں۔