کویت ایئرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، ہندوستانی شہری ہلاک، متعدد زخمی

   

کویت سٹی۔3۔جون:(ایجنسیز)کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر چہارشنبہ کو ایرانی ڈرون حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک جبکہ 63 افراد زخمی ہو گئے۔ کویتی حکام اور ہندوستانی سفارت خانے نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔کویت میں ہندوستانی سفارت خانے نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملے میں ایک ہندوستانی شہری کی المناک موت ہوئی ہے۔ سفارت خانے نے مرحوم کے اہل خانہ سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کویتی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ خاندان اور زخمی ہندوستانی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔ شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل کے ترجمان عبداللہ الراجی نے بتایا کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے ٹرمینل نمبر ایک کو نقصان پہنچا، جس کے بعد ملک بھر میں فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔ حملے کے باعث جانی نقصان کے ساتھ ہوائی اڈے کی بعض تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔ہندوستانی سفارت خانے نے ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت یا دیگر تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔کویت کی وزارت صحت کے سرکاری ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السناد نے بتایا کہ واقعے کے بعد اب تک 63 زخمیوں کو مختلف سرکاری اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فروانیہ اسپتال میں 34، جابر اسپتال میں 17، جراح اسپتال میں 5، العدن اسپتال میں 3، العمیری اسپتال میں 2 جبکہ الصباح اور مبارک الکبیر اسپتال میں ایک ایک زخمی زیر علاج ہے۔انہوں نے کہا کہ 7 زخمیوں کی ہنگامی بنیادوں پر سرجری کی گئی، جبکہ متعدد دیگر افراد کی معمولی مرہم پٹی بھی کی گئی ہے۔ طبی ماہرین شدید زخمی مریضوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور انہیں انتہائی نگہداشت سمیت جدید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے کے اہم فضائی اور تجارتی مراکز بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔

کویت و بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات نشانے پر، کشیدگی میں اضافہ

واشنگٹن/تہران۔ 3۔ جون:(ایجنسیز)اایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ چہارشنبہ کو دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دعوے کیے، جس کے بعد خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے۔ جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی رابطوں کے باوجود میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور بحری کشیدگی نے خطے میں بے چینی بڑھا دی ہے۔امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر ایرانی فوج کے ایک زمینی کنٹرول مرکز کو نشانہ بنایا۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق یہ کارروائی اپنے دفاع کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ایران کی جانب سے خطے میں کیے جانے والے مبینہ حملوں کو روکنا تھا۔امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران نے کویت کی جانب دو اور بحرین کی جانب تین بیلسٹک میزائل داغے۔ ان میں سے بعض میزائل راستے میں ہی ناکام ہو گئے جبکہ باقی کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا۔ امریکہ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی جانب بڑھنے والے تین ایرانی ڈرون مار گرائے گئے۔دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اقدامات کے جواب میں کی گئی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی مرکز پر امریکی کارروائی کے ردعمل میں کیا گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا اور خطے میں تعینات تمام افواج مکمل چوکسی کی حالت میں ہیں۔ ادھر کویت اور بحرین میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ عوام کو مشتبہ اشیاء￿ اور ملبے سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی خطرے کے سائرن بجانے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا۔ بحری محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی فوج کے مطابق آبنائے ہرمز میں نافذ بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کی جانب جانے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے نے بار بار انتباہ کے باوجود ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد اس کے انجن والے حصے کو میزائل حملے سے ناکارہ بنا دیا گیا۔