یوپی میں فرضی انکاؤنٹر اور ذات دیکھ کر چلتا ہے بلڈوزر

,

   

جو حکومت ناکام ہو جاتی ہے وہ فرضی انکاؤنٹر کا راستہ اپناتی ہے:اکھلیش یادو

لکھنؤ۔26؍مئی ( ایجنسیز)سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگل 26 مئی کو پریس کانفرنس میں بی جے پی پر جم کر تنقید کی ہے۔ اس دوران انہوں نے بلڈوزر کارروائی سے لیکر فرضی انکاؤنٹر تک کے مسائل پر اپنی بات رکھی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اس حکومت میں انصاف ملنا مشکل ہے۔ یوپی میں بلڈوزر ذات دیکھ کر چلتا ہے اور بی جے پی حکومت فرضی انکاؤنٹر کراتی ہے۔ ہاتھرس کی بیٹی کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اس کے ساتھ 2020 میں جو ہوا اسی طرح کا واقعہ تقریباً 2026 میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت ہر چیز کو چھپانا بھی چاہتی ہے اور اپنے وسائل کی طاقت سے وہ عوام تک سچ بھی نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فرضی انکاؤنٹر پر بات ہو رہی ہے۔ کل بھی جو کچھ دیکھنے کو ملا اور اہل خانہ کے بیانات اور سامنے آنے والی خبروں سے یہی لگتا ہے کہ فرضی انکاؤنٹر کرنے کی سازش یہ حکومت مسلسل کرتی رہتی ہے۔ یوپی میں مرضی کے مطابق فرضی انکاؤنٹر ہو رہے ہیں۔ یہاں انکاؤنٹر دبدبہ قائم کرنے کیلئے کیے جاتے ہیں۔یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق انکاؤنٹر کو عام طور پر ’تصادم‘ کہتے ہیں۔ پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے تب تک کوئی جگہ نہیں جب تک کوئی اپنے مفاد کے لیے اس کا غلط استعمال نہ کرے۔ فرضی انکاؤنٹر کے ذریعہ سے مینٹل سافٹ ویئر کو سیٹ کیا جاتا ہے لیکن اپڈیٹ یا اپگریڈ نہیں کیا جاتا۔ انکاؤنٹر سے ذہنوں میں تشدد بھرا جاتا ہے، قتل کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے اور جنسی امتیاز کے زمانے کی اس قدامت پسند ذہنیت کو واپس لایا جاتا ہے جو کہتی ہے کہ طاقت ہی حق ہے۔ فرضی انکاؤنٹر جمہوری نظام کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔ فرضی انکاؤنٹر آئین میں دیے گئے انصاف اور سماجی انصاف کی حکمرانی کو سرے سے مسترد کرتا ہے۔ فرضی انکاؤنٹر کرنے والے حکومت نہیں، گنہگار ہیں۔ جس انکاؤنٹر کے پیچھے مرضی چلے، سمجھو وہ فرضی ہے۔ فرضی انکاؤنٹر ناکام حکومت کی پہچان ہے، جو حکومت ناکام ہو جاتی ہے وہ فرضی انکاؤنٹر کا راستہ اپناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرضی انکاؤنٹر سے لا اینڈ آرڈر نہیں سنبھلتا بلکہ اور بگڑتا ہے۔