آوارہ کتوں پر سپریم کورٹ میں گرما گرم بحثتین رکنی بنچ کا فیصلہ محفوظ

   

نئی دہلی، 14 اگست (یو این آئی )قومی خطہ راجدھانی دہلی (این سی آر) میں آوارہ کتوں کو پکڑنے اور انہیں پناہ گاہوں میں بھیجنے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے 11 اگست کے حکم پر روک لگانے کی درخواستوں پر جمعرات کو ایک بار پھر گرما گرم بحث ہوئی اور متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد سہ رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے ۔ چیف جسٹس بی آرگوئی نے دو رکنی بنچ کے 11 اگست کے حکم پراز خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے میں گزشتہ روز کو جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی میں تین ججوں کی ایک نئی بنچ تشکیل دی تھی جس میں جسٹس ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے آج اس کیس کی سماعت کی اور دو رکنی بنچ کے حکم کی صداقت پر سوال اٹھانے والے تمام مداخلت کاروں سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔سہ رکنی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ ایک طرف انسانوں کا دکھ ہے تو دوسری طرف جانوروں سے محبت کرنے والے ہیں۔ جمعرات، 14 اگست کو سماعت کے دوران اس بنچ نے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل سے کہا کہ یہ سب ان کی (میونسپل کارپوریشن) کی کوتاہی اور بے عملی کا نتیجہ ہے ۔بنچ نے سرزنش کرتے ہوئے کہا،حکومت کچھ نہیں کرتی، مقامی اہلکار کچھ نہیں کرتے ۔ مقامی افسران وہ نہیں کر رہے جو انہیں کرنا چاہیے ، انہیں یہاں ذمہ داری لینی چاہیے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ہر سال کتوں کے کاٹنے کے 37 لاکھ واقعات ہوتے ہیں۔ یعنی روزانہ اوسطاً 10,000 کتے کاٹتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ریبیز کی وجہ سے ہر سال تقریباً 20 ہزار اموات ہوتی ہیں۔