اخلاقی پولیس کے خاتمہ کے باوجود ایران خواتین کے ساتھ بہترسلوک نہیں کررہا: امریکہ

   

واشنگٹن : امریکہ کے محکمہ خارجہ نیایران کے اپنی نام نہاد اخلاقی پولیس کوختم کرنے کی خبروں کو مستردکردیا ہے اورکہا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ سلوک کو بہتر بنانے کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔اختتام ہفتہ پر میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے اخلاقی پولیس کوختم کردیا ہے لیکن بعد میں ایران کے سرکاری میڈیا نے اس بات کی تردید کی ہیکہ مذہبی پولیس کو ختم کر دیا گیا ہے۔گشت ارشاد کے نام سے معروف اس پولیس فورس کو 2006 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کو لازمی حجاب سمیت سخت ضابطہ لباس کی تعمیل کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے العربیہ کو بتایا کہ ہم نے رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ایرانی حکام کے مبہم دعووں پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایرانی حکومت کی جانب سے خواتین کے ساتھ سلوک کوبہتربنانے کے کوئی آثار نظرآئے ہیں؟ اس پر اس عہدہ دار نے کہا:’’افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا ہے جس سے یہ ظاہرہوتا ہوکہ ایران کی قیادت خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اپنے سلوک کو بہتر بنا رہی ہے یا پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کو روک رہی ہے۔