اعلی سطحی اجلاس میں بی جے پی نے کسانوں کے احتجاج پر تبادلہ خیال کیا

,

   

نئی دہلی۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا کی جانب سے طلب کردہ پارٹی کی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں منگل کے روز پارٹی کے قومی ہیڈ کوارٹر میں کسانوں کے جاری احتجاج پر تبادلہ خیال کیاگیاہے اور بھگوا پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دی گئی ہے۔

اس اجلاس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ‘ وزیر زرات نریندر سنگھ تومر‘ اور مملکتی وزیر برائے انیمل ہسبنڈری‘ ڈائیرینگ اور فشریز سنجیو بالیان بھی موجود تھے‘ اس اجلاس میں پارٹی کے قومی جنرل سکریٹریز بھوپیندر یادو اور ارون سنگھ بھی شریک ہوئے


بی جے پی ایم پیز‘ ایم ایل ایز نے اجلاس میں شرکت کی
اترپردیش‘ ہریانہ اور راجستھان سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ‘ اراکین اسمبلی اجلاس میں شامل ہوئے‘ جس میں ہریانہ او رراجستھان کے یونٹ سربراہ ستیش پونیا اور سبھاش برالا بھی بالترتیب شامل رہے ہیں۔

ایساسمجھا جارہا ہے کہ اس اجلاس میں ایک منصوبہ تیار کیاگیاہے جو اگلے کچھ دنوں میں ان ریاستوں پر توجہہ دے کر روبمعل لایاجارہا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے کسان قومی درالحکومت کی سرحدوں پر احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

ایسا بھی ماناجارہا ہے کہ بی جے پی اس پیغام کوپیش کرنے کے لئے کسانوں تک پہنچانے کی کوشش کررہے گی کہ یہ حکومت کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

بی جے پی کے ایک ذرائع نے کہاکہ ”یہ بات تبادلہ خیال میں ائی ہے کہ بی جے پی کسانوں کو یہ بات کی ضرورت وضاحت کرے گی کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ تبدیلیا ں لانے کے لئے تیار ہے“۔

اس میں مزید کہاگیاہے کہ ”ایسا بھی سمجھا جارہا ہے کہ مذکورہ قائدین سے اس بات کااستفسار کیاگیاہے کہ وہ کسانوں کو یہ بات سمجھائیں کہ مذکورہ احتجاج سیاست طور پر فروغ دیاہوا ہے“۔

یہ میٹنگ دو گھنٹوں تک چلی مگر ہوم منسٹر پارٹی دفتر میں چار گھنٹوں تک رہے