ایودھیا میں مسجد کے لئے کوئی متبادل قابل قبول نہیں۔ جے یو ایچ

,

   

لکھنو۔ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبادلے خیال کے لئے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجوزہ حساس اجلاس سے دوروز قبل‘ مذکورہ جمعیت علماء ہند (جے یو ایچ)جو ایودھیا مالکان حق معاملہ میں ایک اہم فریق بھی ہے نے فیصلہ کیا ہے کہ ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لئے متبادل پانچ ایکڑ اراضی تسلیم نہیں کی جائے گی۔

دہلی میں تنظیم میں ورکنگ کمیٹی کی جمعرات کے روز منعقدہ اجلاس میں‘ جمعیت علمائے ہند (جے یو ایچ) نے کہاکہ ایک مسجد کا ’متبادل‘ کچھ بھی قابل قبول نہیں ہوتا‘ چاہئے وہ پیسے ہوں یا پھر اراضی رہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر جائزہ درخواست داخل کرنے کے امکانا ت سے جے یو ایچ نے انکار نہیں کیاہے۔ جے یو ایچ کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ حقائق سے آگاہی کمیٹی کے پانچ ممبرس اس پر قانونی رائے حاصل کررہے ہیں۔

اترپردیش جے یو ایچ صدرارشد راشدی جو اجلاس میں موجود تھے نے کہاکہ”ورکنگ کمیٹی نے دو اہم فیصلے لئے گئے ہیں۔ایک مسجد کے لئے متبادل پانچ اراضی سے متعلق اور دوسرا جائزہ درخواست داخل کرنے کے لئے امکانات اس میں شامل ہیں“۔

راشدی نے کہاکہ”مذکورہ ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز مسجد کی ’بدل‘ نہیں ہوسکتی ہے‘ تو اراضی اور نہ ہی دولت۔کسی بھی مسلم تنظیم کی جانب سے اسکو تسلیم کرنا درست نہیں ہوگا“۔

جمعیت علماء ہند کا قیام 1919میں عمل میں آیا جس کا شمار مسلمانوں کی بہت ہی مستحکم تنظیم میں کیاجاتا ہے۔ اس نے خلافت مومنٹ اور آزادی کی جدوجہد میں ہم رول بھی ادا کیا‘ حالانکہ تنظیم نے تقسیم ہند کی مخالفت بھی کی تھی۔