تشدد زدہ منی پور سے 5600سے زائد لوگوں نے آسام پناہ لی

,

   

‘ میزورم میزو زیرلائی پاؤل(ایم زیڈ پی)‘ میزورم کی طلبہ تنظیم نے منی پور حکومت پر زو مذہبی قبائیلوں کی اراضی ہڑپنے او رانہیں بے دخل کرنے کا الزام لگایاہے۔


ایزوال۔عہدیداروں نے چہارشنبہ کے روز بتایاکہ 3مئی کے روز منی پور میں نسلی تشدد پھوٹ پڑنے کے بعد میزورم کے چھ اضلاعوں میں 3375سے زائد بچوں‘ عورتوں اورمردوں نے پناہ لی ہے۔منیپور تشدد کی وجہہ سے جنوبی آسام کے ضلع چاچر میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے اٹھ شیلٹر میں دیگر2300افراد نے پناہ لی ہے۔

تاہم 600کے قریب لو منی پور میں اپنے گھر وں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔ایزوال میں ایک اہلکار نے کہاکہ بتائے جارہے 3375لوگوں میں سے زیادہ تر قبائیلی میزورم میں پناہ لئے ہوئے ہیں‘ سب سے زیادہ سائی تول ضلع میں 1214اس کے بعد کولا سیب ضلع میں 1142‘ ایزول ضلع میں 934‘ اور چامپائی ضلع میں 68جبکہ کھاؤزوال ضلع میں 12اور سرچپ ضلع میں 4لوگوں نے پناہ لی ہے۔

وہی قبائیلی اورغیر قبائیلی طبقات‘ خاص طور سے مائتائس‘ ناگاس‘ کوکیس‘ میزوس‘ او رچکماس جو مختلف شمالی مغربی ریاستوں میں رہ رہے ہیں ایک پیچیدہ موزیک پیش کرتے ہوئے رہ رہے ہیں۔پارلیمنٹرین‘ مختلف تنظیمیں اور این جی اوز کا منی پور او رمرکزی حکومت پر زور ہے کہ وہ تمام اسیک ہولڈرس کو شامل کرتے ہوئے نسلی تشدد میں کمی لانے کاکام کریں۔

برسراقتدار میوز نیشنل فرنٹ ایم پی سی لال روسانگا نے انڈین آرمی چیف جنرل منوج پانڈے پر زوردیاہے کہ وہ عوام میں بھروسہ او راعتماد بڑھائیں‘ بالخصوص قبائیلی طبقات میں تاکہ منی پور میں نسلی فسادات پر قابو پالیا جاسکے۔

مذکورہ شمال مشرقی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ای ایس او) جو سات شمال مشرقی ریاستوں کی اٹھ بڑی اسٹوڈنٹس تنظیموں کی ایک اہم جماعت ہے نے زوبرداری سے تعلق رکھنے والے مقامی آبادکاروں کوبے دخل کرنے کی منی پور حکومت کے اقدام او راس کے بعد ہونے والے پرتشددواقعات کی مذمت کی۔

تشدد زدہ منی پور سے 5600سے زائد لوگوں نے آسام پناہ لی‘ میزورم میزو زیرلائی پاؤل(ایم زیڈ پی)‘ میزورم کی طلبہ تنظیم نے منی پور حکومت پر زو مذہبی قبائیلوں کی اراضی ہڑپنے او رانہیں بے دخل کرنے کا الزام لگایاہے۔

منی پور چیف منسٹراین برین سنگھ نے پیر کے روز کہاتھا کہ3مئی کے روز منی پور میں پیش آنے والی نسلی تشدد میں عورتوں کے بشمول کم ازکم 60لوگ مارے گئے ہیں اور 231لوگ زخمی ہوئے ہیں وہیں 1700گھروں کو نذر آتش کردیاگیاہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ 35655افراد جس میں 1593طلبہ شامل ہیں انہیں محفوظ مقامات پرمنتقل کردیاگیاہے۔