تلنگانہ میں کانگریس استحکام کیلئے ملکارجن کھرگے کے ایکشن پلان کی تیاری

   

عاملہ کے توسیعی اجلاس کا فیصلہ، ریونت ریڈی کی پدیاترا پر نئے انچارج سینئر قائدین سے مشاورت کریں گے
حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ میں کانگریس کے استحکام کیلئے نئے انچارج مانک راؤ ٹھاکرے کے ذریعہ کئی اہم اقدامات کی تیاری کرلی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کرناٹک اور تلنگانہ پر خصوصی توجہ کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت پارٹی میں ناراضگیوں اور گروپ بندیوں کے خاتمہ کے ذریعہ پارٹی کو دوبارہ برسراقتدار لانے کا ایکشن پلان تیار کیا جارہا ہے۔ مانک راؤ ٹھاکرے 20 جنوری کو تین روزہ دورے پر حیدرآباد پہنچیں گے اور توقع ہے کہ پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ کا توسیعی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ پہلے دورہ میں دو روزہ قیام کے دوران مانک راؤ ٹھاکرے نے سینئر قائدین سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کی صورتحال اور ناراضگی کی وجوہات کے بارے میں سوالات کئے تھے۔ پردیش کانگریس عاملہ کے ارکان اور دیگر قائدین سے ان کی ملاقات نہیں ہوسکی لہذا 20 جنوری کو آمد کے بعد پردیش کانگریس کمیٹی عاملہ کا توسیعی اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ کیڈر کو اپنی رائے رکھنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق 21 جنوری کو توسیعی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے جو 5 ماہ کے وقفہ کے بعد منعقد ہورہا ہے۔ گذشتہ اجلاس میں اسوقت کے انچارج مانکیم ٹیگور کو سینئر قائدین کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 26 جنوری سے ملک بھر میں شروع ہونے والی ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کو تلنگانہ میں کامیاب بنانے کیلئے نئے انچارج سینئر قائدین کے ساتھ مشاورت کریں گے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کی ریاست گیر پدیاترا کی تاریخوں کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کے تحت شہروں اور دیہاتوں تک عوام سے رابطہ کی بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ ہر ضلع میں مقامی قائدین بلاک سطح تک پدیاترا کریں گے اور ہر ضلع میں ایک مرکزی پروگرام میں صدر پردیش کانگریس کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ دو ماہ تک عوامی رابطہ کی یہ مہم جاری رہے گی۔ ریونت ریڈی چاہتے ہیں کہ اسی مہم کے دوران ان کی پدیاترا کا آغاز ہو تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کرسکیں۔ کانگریس ہائی کمان نے یاترا کو ہری جھنڈی دکھانے سے قبل سینئر قائدین سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی سینئر قائدین نے ریونت ریڈی کی جانب سے یکطرفہ طور پر پدیاترا کے اعلان کی مخالفت کی ہے۔ توقع ہے کہ ہائی کمان ریونت ریڈی کو تنہا پدیاترا کی اجازت دینے کے بجائے تمام سینئر قائدین کے ساتھ بس یاترا کی تجویز پیش کرسکتا ہے تاکہ پارٹی قائدین میں اتحاد برقرار رہے۔ر