کولکاتا : مویشی گھوٹالہ، اساتذہ تقرری گھوٹالہ، شاردا گھوٹالہ، ناردا گھوٹالہ کے بعداب مغربی بنگال میں راشن گھوٹالہ کو لے کر مرکزی ایجنسیاں سرگرم ہوگئی ہیں ۔تاہم سوال یہ ہے کہ بنگال میں راشن گھوٹالہ کیسے ہوا؟۔ای ڈی کے دستاویز کے مطابق اس گھوٹالہ میں مل مالکان اور راشن ڈیلروں نے مل جل کر انجام دیا ہے ۔ای ڈی کو حاصل ہوئی معلومات کے مطابق فلور ملز کے مالکان ہر ایک کلو آٹے میں کم از کم 200 گرام آٹا کم کردیتے تھے ۔ای ڈی کو یہ معلومات چاول اور آٹا ملوں کے مالکان سے پوچھ گچھ کے دوران ملی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی مقدار بعض اوقات 400 گرام تک کم کردی جاتی تھی۔ یعنی ایک کلو آٹے کی قیمت پر سرکاری سپلائرز کو 600 گرام آٹا ملتا تھا۔یہ سب مل مالکان اور سرکاری سپلائرز کے تعاون سے کیا گیا۔ ای ڈی جو معلومات حاصل ہوئی ہے اس کے مطابق بقی الرحمن چاول اور آلو کی کمپنی کا ڈائریکٹر ہے ۔ اس کمپنی کے منیجر سے بات کرنے کے بعد ای ڈی کو بدعنوانی کی نوعیت کا اندازہ ہوا ۔گرچہ بقی الرحمن نے مکمل طور پر الزامات کو قبول نہیں کئے ہیں ۔تاہم بقی الرحمن کے قریبی لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ چاول اور آٹا کم وزن کیا جاتا تھا۔