سپریم کورٹ نے گیان واپی کیس ضلع مجسٹریٹ کے پاس منتقل کیا‘ اس مقام کے مذہبی کردار کا پتہ لگانے کو کہا

,

   

مذکورہ سپریم کور ٹ نے جمعہ کے روز ہندوعقیدت مندوں کی جانب سے گیان واپی مسجد پر دائر کردہ ایک سیول سوٹ کو سیول جج(سینئر ڈیویژن) سے ضلع جج واراناسی منتقل کیا ہے‘ کہاکہ اگر کوئی سینئرتجربہ کار سینئر عدالتی عہدیدار جس کا تجربہ 25-30سال کا ہے اس معاملے کی حساسیت اور پیچیدگیوں کے پیش نظر دیکھتا ہے تو بہتر ہوگا۔ ایک اہم مشاہدے میں سپریم کورٹ نے یہ بھی کہاکہ عبادت گاہ کے مذہبی کردار کا پتہ لگانے کے عمل پر 1991کے عبادت گاہوں کے قانون کے تحت کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔

جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ‘ سوریہ کانت اور پی ایس نرسمہا نے کہاکہ اس معاملے میں پیچیدگیاں اور حساسیت ہے اور اس کو اگر ایک ضلع جج دیکھتا ہے تو بہتر ہوگا اور واضح کیاکہ وہ اس سے قبل معاملے کو نمٹنے والے سیول جج(سینئر ڈویثرن)پر کوئی اعتراض نہیں کررہے ہیں۔

بنچ نے کہاکہ اس معاملے کی پیچیدگیوں او رحساسیت کو دیکھتے ہوئے ہمارا خیال ہے کہ سیول جج(سینئر ڈویژن)واراناسی کے سامنے مقدمہ کی سماعت ایک سینئراور تجربہ کار عدالتی افیسر کے سامنے کی جائے۔

مسجد کمیٹی کی جانب سے سی پی سی کے رول 11اور آرڈر7کے تحت دائر کردہ درخواست کی ترجیح کا فیصلہ کرنے کاضلع جج کوعدالت عظمیٰ نے ہدایت دی ہے‘ جس میں کہاگیا ہے کہ 1991کے قانون برائے پارلیمنٹ میں کے تحت سیول سوٹ کو روک دیاگیا ہے جو سیول جج(سینئر ڈویثرن) سے سوٹ کے پیپرس کی منتقلی پر فیصلہ کیاجائے گا۔

اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے 17مئی کو اپنے عبوری احکامات میں مبینہ شیو لنگ جس مقام سے دستیاب ہوا ہے اس کو تحفظ فراہم کرنے اور مسجد میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی ہدایت دی تھی جو ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے اس معاملے پر فیصلہ سنانے تک یہ عمل جاری رہے گا۔

مئی 17کے روز واراناسی کی عدالت نے گیان واپی مسجد عمارت کے ویڈیو سروے کے احکاما ت دئے تھے‘ ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو ”فرائض کی انجام دہی میں اپنے غیر ذمہ دارانہ رویہ“ کا مظاہرہ کرنے پر ہٹادیااور کمیشن کورپورٹ درج کرنے کے لئے آج تک کا وقت دیاتھا۔