سینئر جج کے خلاف تبصرہ پر دہلی ہائی کورٹ سے وویک اگنتی ہوتری نے مانگی معافی

,

   

مذکورہ دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیاہے کہ اگلے سنوائی جو 16مارچ2023کو مقرر ہے اس دور ان وویک اگنی ہوتری شخصی طور پر پیش ہوں
بھیما کورے گاؤں معاملے میں جہدکار گوتم نولکھا کو راحت دینے والے

جسٹس ایس مرلی دھر کے خلاف قابل اعتراض بیانات ٹوئٹ کرنے کے بعد دی کشمیر فائیلس کے ہدایت کار نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں انہوں نے سینئر جج کے خلاف کئے گئے اپنے بیان کے بارے میں لکھا اور ایک ”غیر مشروط“ معافی بھی مانگی ہے۔

اگنی ہوتری نے دعوی کیاکہ انہوں نے ٹوئٹ حذف کردیا۔ تاہم منگل کے روز عدالت کی حمایت کرنے والے ایک سینئر وکیل اروند نگم نے کہاکہ اس بات کاامکان نہیں ہے ہدایت کار نے اپنے ٹوئٹس ہدف کئے ہیں۔

نگم نے کہاکہ سوشیل میڈیاپلیٹ فارم ٹوئٹر کے لئے توہین آمیزاو رنقصاندہ تبصروں کے خلاف اپنی پالیسیوں کے مطابق اس کو حذف کرنا انتہائی ممکن ہے۔

اس جج کی نگرانی جسٹس سدھارت مردیول اور جسٹس تلوانت سنگھ کررہے تھے جنھوں نے حکم دیاہے کہ اگلے سنوائی جو 16مارچ2023کو مقرر ہے اس دور ان وویک اگنی ہوتری شخصی طور پر پیش ہوں۔

عدالت نے کہاکہ ”ہم انہیں (اگنی ہوتری کو) کہہ رہے ہیں کہ وہ حاضر رہیں کیونکہ انہوں نے غلطی کی ہے۔

اگر انہوں نے غلطی کی ہے تو انہیں اس کا اظہار شخصی طور پر کرنا چاہئے؟ پچھتاوے ک اظہار ہمیشہ حلف نامہ کے ذریعہ نہیں کیاجاسکتا ہے“۔