غزہ میں ”فلیگ مارچ“ پر احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین پراسرائیل نے راست گولیاں او رآنسو گیس برسائے

,

   

مذکورہ احتجاج جمعرات کے روزانتہائی دائیں بازو اسرائیلی گروپس کے نام نہاد”فلیگ مارچ“ کے بعد پیش آیاہے
یروشلم۔ الجزیرہ کی خبر کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جڑے مشرقی غازہ پٹی پر ایک احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف اسرائیلی پولیس کی راست فائرینگ اور آنسو گیس کے استعمال میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

مذکورہ احتجاج جمعرات کے روزانتہائی دائیں بازو اسرائیلی گروپس کے نام نہاد”فلیگ مارچ“ کے بعد پیش آیاہے۔جمعرات کے روز سینکڑو ں فلسطینیوں نے اس مارچ میں حصہ لیا جو اسرائیلی مارچ کے جواب میں فلسطینی دھڑے کی جانب سے نکالاگیاتھا۔

غزہ میں ہونے والے احتجاج نے یروشلم”فلیگ مارچ“ کی مذمت کی اور مسجد الاقصاء پر اسرائیلی دھاووں کو فوری بند کرنے کی مانگ کی ہے۔اسرائیلی اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ غزہ او راسرائیل کوعلیحدہ کرنے والے فینس پر دھماکو خیزمواد پھینکنے کے بعد‘ ان کے افسران نے راست فائرینگ کی ہے۔حالیہ برسوں میں اس واقعے کے نتیجے میں تشدد ہوا ہے‘ جو مشرقی یروشلم پر قبضے اور الحاق کی یاد میں ہر سام منایاجاتا ہے۔

مشرقی یروشلم کے دونوں مقامات مسجد الاقصاء کے صحن او راحاطے میں اسرائیلی سپاہیوں کے داخل ہونے اور ضلع شیخ جرح سے فلسطینیوں کے اخراج کے بعد پیدا شدہ بدامنی کے بعد 2021سے مارچ نکالاجارہا ہے۔


پچھلے ہفتے‘ اسرائیلی ڈیفنس فورسز(ائی ڈی ایف)نے غزہ پٹی میں اس دعوی کے ساتھ جوابی حملے کیے تھے میزائل کے الارم کے نتیجے میں دو زیرزمین اسلامک جہاد راکٹ لانچروں کو نشانہ بنایاگیا تھاجو جنوبی او روسطی اسرائیل میں سنائی دئے گئے ہیں۔

اسرائیل ٹائمز کے مطابق پانچ دنوں کی لگاتا ر لڑائی کے بعد اسرائیل اورفلسطینی اسلامی جہاد نے جنگی بندی پر کسی طرح رضا مندی ظاہر کی جس کی ثالثی مصرنے کی تھی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں 33فلسطینی ہلاک ہوگئے جس میں کم ازکم 13شہری تھی۔

راکٹ فائر مں ی دو اسرائیلی لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔حالانکہ اس جنگ بندی سے ان 20لاکھ لوگوں اور سینکڑوں ہزار اسرائیلیوں کو کچھ حد تک راحت ملی ہے جو حالیہ دنوں میں بم شیلٹرس میں محروس تھے‘ جبکہ اس معاہدے نے فلسطین اوراسرائیل کے مابین کئی ادوار کی لڑائی کا سبب بننے والے حالات کا حل نہیں نکلا ہے جو غزہ پٹی میں جاری ہے۔