ممبئی: مسلمان بمشکل 2تا3 فیصد گریجویشن کر رہے ہیں اور مشکل سے 2تا2.5 فیصد کو سرکاری یا خانگی شعبے میں ملازمتیں مل رہی ہیں۔ مہاراشٹرا میں کمیونٹی کی حالت او بی سی یا مراٹھوں سے بھی بدتر ہے۔ غریب مسلمانوں کیلئے نوکریوں اور تعلیم میں کوٹہ فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط محاذ بنانا اور کمیونٹی کی حالت زار کو اجاگر کرنے کیلئے سوچر منچ کے صدر حسین دلوائی، سابق ایم پی نے ہفتہ کو یہاں ایک قومی سطح کی مسلم حقوق کانفرنس طلب کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے دلوائی نے کہا کہ اگرچہ مہاراشٹرا کی آبادی کا تقریباً 11.5 فیصد مسلمان ہیں لیکن تعلیم اور ملازمتوں میں ان کا تناسب بہت کم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سطح غربت سے نیچے رہنے والے مسلمانوں کی تعداد دیگر تمام برادریوں میں سب سے زیادہ ہے اور مسلم کمیونٹی بدستور پسماندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 تا14 سال کی عمرکے تقریباً 75 فیصد بچے ابتدائی چند سالوں میں اسکول چھوڑ دیتے ہیں اور بمشکل 2 تا3 فیصد گریجویٹ یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ سرکاری اور خانگی شعبے میں مشکل سے 2 تا2.5 فیصد ملازمتیں رکھتے ہیں۔