مغربی بنگال میں کانگریس کے آخری گڑ‘ ٹی ایم سی کا وار‘ بی جے پی کو ہندو ووٹوں پر معمولی سبقت

,

   

سال2008میں ہوئی ازسر نو حد بندی کے بعد ‘ مالدہ کی صرف ایک سیٹ رہ گئی‘ جس پر 1980سے 2006اے بی اے غنی خان چودھری اپنے انتقال تک یہاں سے جیت حاصل کرتے رہے۔

کلکتہ۔ مالدہ کانگریس کے لئے بنگال میں آخری پڑھاؤ ہے۔ مذکورہ ضلع جہاں پردو سیٹیں تھے‘ مالدھ شمال اور مالدہ جنوب لوک سبھا حلقہ جات پر مشتمل تھا۔ سال2008میں ہوئی ازسر نو حد بندی کے بعد مالدہ کی صرف ایک سیٹ رہ گئی ‘ جس پر لگاتا کانگریس لیڈر اے بی اے غنی خان چودھری 1980سے 2006تک جب ان کا انتقال ہوا ‘ یہا ں سے جیت حاصل کرتے رہے۔سال2009اور2014میں کانگریس نے مذکورہ سیٹوں پر دوبارہ جیت حاصل کی تھی۔

جبکہ غنی کے بھتیجے ابو حصیم خان چودھری مالدہ شمال پر جیت حاصل کی‘جبکہ مرحوم رکن پارلیمنٹ کے بھائی نے جنوبی مالدہ کی سیٹ پر کامیابی حاصل کی۔تاہم 28جنوری نور نے ترنمول کانگریس نے شمولیت اختیار کرلی‘ جو نہ صرف کانگریس کی مقبولیت پر بلکہ غنی کے فیملی میں بھی یہ ٹکراؤ کی وجہہ بنا۔

مالدہ کی دونوں سیٹوں کی بازیابی کے لئے کانگریس کی سی پی ایم سے بات چیت جاری ہے۔جبکہ دوسری جانب بی جے پی اہم اپوزیشن کے طورپر ریاست میں ابھرتے ہوئے ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش کررہی ہے‘ اس کو امید ہے کہ مسلم ووٹ ٹی ایم سی او رکانگریس کے درمیان میں منقسم ہونگے۔

پارٹی چھوڑنے کے متعلق اپنے فیصلے کی مدافعت میں نور نے کہاکہ’’ اگر آپ لوگوں کا کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ صرف ممتا بنرجی کے زیر قیادت ہوگا۔ مالدہ میں سیلاب کے دوران ‘ انہوں نے مصائب زدہ لوگوں کی مدد کی ہے‘‘۔

پارٹی میں ان کا استقبال کرتے ہوئے ٹی ایم سی مالدہ ضلع کے صدر معظم حسین نے کہا ہے کہ ’’ہمارے ساتھ نور کا آبا ایک فائدہ ہے۔ مگر ممتا بنرجی کا ڈیولپمنٹ ایجنڈہ مغربی بنگال جس میں مالدہ بھی شامل ہے اس کا اہم عنصر رہا ہے‘‘۔ دونوں2009اور2014میں نور نے سی پی ایم امیدوار کو شکست دی تھی۔

ابوحاصم خان نے 2009میں اس سیٹ پر سی پی ایم کے امیدوار کو شکست دے کر جیت حاصل کی تھی جبکہ بی جے پی کو یہاں سے 34.81ووٹ حاصل ہوئی تھے۔ کانگریس کے ریاستی صدر سومین مترا نے کہاکہ ’’ کئی سالوں سے لوگ کانگریس اور غنی خان چودھری کے ساتھ تھے۔جو بھی کانگریس چھوڑ کر ان کے خاندان سے جارہا ہے وہ گمراہ ہے۔

ہم اپنی اس روایتی سیٹ پر دوبارہ جیت حاصل کریں گے‘‘۔ بنگال میں جے پی لیڈر اپنے الگ منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی سکریٹری سیانتان باسو نے کہاکہ ’’ حالانکہ ہم 2014میں مالدہ جنوب کی سیٹ پر دوسرے نمبر پرتھے ‘ جبکہ تناسب بڑا تھا۔ اس مرتبہ ہم دونوں سیٹوں پر جیت حاصل کرنے کی زبردست کوشش کریں گے۔ ہمارے لئے شمالی مالدہ کی سیٹ آسان ہے۔ مذکورہ ہندو بڑی تعداد میں اور متحد ہیں‘‘۔

سال2011کی مردم شماری کے مطابق ضلع میں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب 51.27فیصد ہے تو ہندوآبادی47.99پر مشتمل ہے۔

باسو نے مزیدکہاکہ ’’ نریندر مودی کی قیادت میں ترقی اہم ایجنڈہ ہے۔ تاہم یہ سرحدی علاقہ ہے جہاں سے فرضی کرنسی‘ گائے تسکری اہم موضوع ہے‘ جس کو انتخابی مہم کے دوران اجاگر کیاجائے گا‘‘