مہنگائی … ہوٹلوں کے بجائے ٹھیلہ بنڈیوں پر ناشتہ کو ترجیح

   

حیدرآباد۔/10 اپریل، (سیاست نیوز) خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ نے سماج کے ہر طبقہ کو اپنی زد میں لیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقات بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں۔ صبح کے اوقات میں ویجیٹرین ناشتہ عام طور پر غریب اور متوسط طبقات کی غذا کے طور پر شہرت رکھتا ہے اور لوگ طلوع آفتاب کے ساتھ ہی ٹھیلہ بنڈی اور دیگر گاڑیوں پر اڈلی، دوسہ اور دیگر ناشتہ کی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ ٹھیلہ بنڈیوں حتیٰ کہ ٹو وہیلرس پر خریدی کیلئے ہجوم دیکھا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے خوردنی تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ کے سبب غریبوں کا ناشتہ بھی مہنگا ہوچکا ہے۔ نہ صرف ہوٹلوں بلکہ سڑک کے کنارے کاروبار کرنے والے افراد نے بھی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اڈلی ، دوسہ ، پوری ، ووڈا اور میسور بھجیہ کی قیمت میں پانچ تا 10 روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ میلس کی قیمت میں 15 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ دو ماہ قبل تک بھی ایک عام ہوٹل میں ناشتہ 30 تا 30 روپئے میں ہوسکتا تھا جو اب بڑھ کر 50 تا 60 روپئے ہوچکا ہے۔ دوپہر اور رات کا کھانا جو 90 تا 110 روپئے میں تھا وہ بڑھ کر 150 روپئے تک پہنچ چکا ہے۔ ہوٹلوں میں قیمتوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین اور دیگر افراد سڑک کے کنارے ناشتہ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ رقم کی بچت ہوسکے۔ ٹھیلہ بنڈیوں اور ٹو وہیلرس پر کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کے نتیجہ میں وہ بھی اشیاء کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں۔ ر