ناگہانی واقعات کے خدشات میں کشمیری میل ورکرس مظفر نگر چھوڑ کر جانے پر مجبور

,

   

بھارتیہ کسان یونین ( تومار)کی جانب سے منگل کے روزمیل کے باہر احتجاج کیا اور کشمیری ورکرس کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا‘ کیونکہ’’ لوگ وادی میں سپاہیوں پر پتھر بازی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اور یہاں پر آکر پناہ لیتے ہیں‘‘

مظفر نگر۔ مغربی اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں کاتھولی گاؤں کے اندر واقعہ تروینی شوگر میل کے باہر احتجاج اور کشمیری ملازمین کو نکالنے کے مطالبے کے دوروز بعدوادی کے نوجوانوں نے خوف کے عالم شہر چھوڑ کر جاناشر وع کردیاہے۔

چہارشنبہ کے روز مل ملازمین نے بتایا کہ 70میں سے 34مزدور پہلے ہی شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور اگلے کچھ دنوں میں مزیدکچھ جانے کی پلاننگ کررہے ہیں۔ یہ تمام نومبر اور اپریل کے درمیان یہاں پر مشکل حالات کا سامنا کرنے پر ائے تھے۔

مظفر نگر کی اٹھ شکر کی فیکٹریوں میں تروینی سب سے بڑی میل ہے ‘ جس میں سا ت سو کے قریب مزدو کام کرتے ہیں اور6.17کنٹل شکر کا تیس فیصد یومیہ تیار کرتے ہیں ۔

بھارتیہ کسان یونین ( تومار)کی جانب سے منگل کے روزمیل کے باہر احتجاج کیا اور کشمیری ورکرس کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا‘ کیونکہ’’ لوگ وادی میں سپاہیوں پر پتھر بازی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اور یہاں پر آکر پناہ لیتے ہیں‘‘۔

چہارشنبہ کی صبح 22سالہ بلال سید لکڑے کے بنے ہوئے دو گھرجہاں پر ورکرس سوتے ہیں کے صحن میں کھڑے ہوکر کہاکہ ’’ میں ڈرا ہواہوں یہ کہنے میں مجھے کوئی شرم نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہم سب ڈر کے ماحول میں ہیں۔ اس سے قبل ہمیں اس طرح کا ڈر کبھی نہیں ہوا۔

ہم یہاں پر ایمانداری کی زندگی گذارنے ائے ہیں۔ ہم کبھی بھی کسی کو بھی زد نہیں پہنچائیں گے۔ یہ مشکل ہے مگر ہمیں واپس چلے جانا چاہئے‘‘۔

بلال کے اطراف اس وقت اس کے ساتھی کھڑے ہوئے تھے۔بلال کے علاوہ جو کشمیر کے بانی وال کا ساکن ہے مزید بیس لوگ جمعرات کے روز وادی جانے کے لئے ٹرین میں سوار ہوجائیں گے۔ بیس سالہ بلال احمد نے کہاکہ ہم اس وقت یہاں پر ائے تھے جب کشمیرمیں بہت ہی کم کام تھا۔

اس نے کہاکہ ’’ گانے کوتوڑ کے دوران ہمیںیہاں پر نوکری مل گئی۔ ہم سرما کے دوران کام کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔

مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیںیہ موقع نہیں ملا گے۔ میرے والدین پریشان ہیں اور وہ چاہتے ہیں میں واپس آجاؤں‘‘۔ سال2011کے میل کے نائب صدر رہے اشوک کمار نے کہاکہ ’’ کئی کشمیری‘‘ یہاں پر کام کرتے ہیں کیونکہ میل نے انہیں کام کرنے کا موقع فراہم کیاہے۔

تروینی مل کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ’’ وہ یہاں پر بلا خوف وخطر رہتے ہیں‘ یہ غلط ہے۔ ہم ضلع انتظامیہ سے اس ضمن میں بات کررہے ہیں تاکہ اس کا حل نکالیں۔تعاون کے لئے شناخت کے ہرپہلو ہم فراہم کریں گے‘ اس طرح کے حالات دوبارہ نہیں ائیں گے‘ اور ہمیں امید ہے یہ بہت جلد حل ہوجائے گا‘‘۔

ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ امیت سنگھ نے کہاکہ ’’ مظفر نگر کی ملز میں کام کرنے والے کشمیری کی تعداد ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔

اب تک ہمیں اس بات کی جانکاری ملی ہے کہ کچھ کشمیری ورکرس تروینی ملز میں کام کرتے ہیں۔ہمیں نہ تو پولیس سے اور نہ ہی مل کی جانب سے کوئی تحریری شکایت اب تک نہیں ملی ہے۔

اگر اس طرح کا کچھ کام کیاجارہا ہے تو ہم اس کے خلاف کاروائی کریں گے‘‘۔کشمیریوں کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے انہیں کچھ نقصان نہیں ہوگا‘ بی جے پی کے مظفر نگر رکن پارلیمنٹ یہاں پر ائے اور کہاکہ ’’ یہاں پروہ کام کرنے کے لئے ائے ہیں۔

وہ یہاں پر رہنے کے لئے نہیں ائے ہیں اور نہ کوئی نقصاندہ سرگرمی میں ملوث ہونگے۔ یہ غلط ہے‘ غیرضروری سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں انتظامیہ سے بات کرتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کاکام کروں گا‘‘