ویڈیو۔ اسدالدین اویسی نے وزیراعظم مودی کو یو سی سی پر ان کے بیان کے حوالے سے شدید تنقید کانشانہ بنایا

,

   

اویسی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وزیراعظم مودی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیاجانا چاہئے۔
حیدرآباد۔کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ان کے ملک میں یونیفارم سیول کوڈ کی وکالت پر شدید تقنید کا نشانہ بنایا او رپوچھا کہ ”کیاآپ ملک سے اس کے تنوع او رتکثیریت کونکال دیں گے“۔

اے ائی ایم ائی ایم صدر نے کہاکہ ”ہندوستان کے وزیراعظم ملک کی تنوع او رتکثیریت کو ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اسی وجہہ سے وہ ایسی کہہ رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم ہند نے ارٹیکل 29کو نہیں سمجھا۔

یو سی سی کے نام پر کیا آپ ملک سے اس کے تکثیرت اور تنوع کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟“۔ انہوں نے مزید الزام لگایاکہ جب وزیراعظ یو سی سی پر بات کرتے ہیں تو وہ ہندو سیول کوڈ کا حوالہ دیتے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے مزیدکہاکہ ”جب وہ یو سی سی پر بات کرتے ہیں‘ وہ ہندوسیول کوڈ کی بات کرتے ہیں۔ اب وہ تمام اسلامی طریقوں کو غیر قانونی تصویر کریں گے اور تمام ہندو طریقوں کو قانون کے تحت تحفظ دیں گے۔

میں چیالنج کرتاہوں کہ کیاوہ ہندو غیرمنقسم خاندانوں کو ختم کرسکتے ہیں؟جاؤ پنجاب میں سکھوں کو یوسی سی کے بارے میں بتاؤ‘ دیکھو وہاں کیاردعمل ہوتا ہے“۔

اویسی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وزیراعظم مودی نے کہاکہ سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے کہ یونیفارم سیول کوڈ نافذ کیاجانا چاہئے۔بھارتیہ جنتا پارٹی بوتھ ورکرس سے مدھیہ پردیش کے بھوپال میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مود ی نے کہاکہ ”آج لوگوں کو یوسی سی کے نام پر بھڑکایاجارہا ہے۔

کیسے مذکورہ ملک دوقانون پر چل سکتا ہے؟ائین بھی مساوی حقوق کی بات کرتا ہے‘ سپریم کورٹ نے بھی یو سی سی کو نافذ کرنے کا استفسار کیاہے۔

یہ (اپوزیشن) کے لوگ ووٹ بینک کی سیاست کھیل رہے ہیں“۔اس سے قبل کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے وزیراعظم پر تنقید کی او رالزام لگایا کہ وہ ملک کے دیگر مسائل سے توجہہ ہٹانے کے عادی ہیں۔