ٹرمپ کے فیصلے کوتبدیل کرتے ہوئے جوبائیڈن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل سے دوبارہ رجوع ہونے کا اٹھایااقدام

,

   

اتوار کے روز لئے گئے فیصلوں میں ٹرمپ کے دور کے کثیر الجہتی تنظیمو ں او راداروں سے دورہونے کے ایک اور فیصلے کو الٹ دیاگیاہے
واشنگٹن۔امریکہ حکام نے کہا ہے کہ مذکورہ بائیڈ ن انتظامیہ اس ہفتہ اعلان کرنے کی تیاری کررہا ہے وہ انسانی حقوق کونسل سے اشتراک کرے گا جس سے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ تین سال قبل اپنی حمایت سے دستبردار ہوگئے تھے۔

اتوار کے روز لئے گئے فیصلوں میں ٹرمپ کے دور کے کثیر الجہتی تنظیمو ں او راداروں سے دورہونے کے ایک اور فیصلے کو الٹ دیاگیاہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بالکن اور سینئر امریکی سفیر برائے جنیوا پیر کے روز یہ اعلان کریں گے کہ واشنگٹن جنیوا نژاد تنظیم میں ایک مبصر کے طور پر واپسی کرے گا اور ساتھ میں مکمل رکنیت کی مانگ کرتے ہوئے انتخابات کا خواہاں ہے۔

اس فیصلے کو قدآمت پسند قانون سازوں اور موافق اسرائیل کمیونئی کے کئی لوگوں کی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اسرائیل پراپنی غیرمعمولی توجہہ کے پیش نظر ٹرمپ نے 2018میں انسانی حقوق ایجیسی کے عالمی تنظیموں سے اپنی دستبرداری اختیارکرلی تھی‘ جہاں پر کسی ملک کے خلاف بڑی تعداد میں تنقیدی کونسل کی قراردادیں پیش کی گئی ہیں کیونکہ اس وقت کی امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی کی جانب سے مطالبہ کردہ اصلاحات کی غیرمعمولی فہرست کو پیش کرنے میں وہ ناکام رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل پر کونسل کی مستقل توجہہ کے پیش نظر مذکورہ ٹرمپ انتظامیہ نے تنظیم کی رکنیت کے ساتھ موزوں چھیڑا تھا‘ جس میں چین‘ کیوبا‘ اریٹریا‘ روس‘ اور ونزولہ شامل ہے اور ان تمام پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عائد ہے۔

امریکہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ بائیڈ ن انتظامیہ یہ مانتا ہے کہ کونسل کو اب بھی اصلاح کی ضرورت ہے مگر تبدیلی کو فروغ دینے کا بہترین راستہ اس کے ساتھ اصولی اندازمیں شامل ہونا ہے۔

تین سال کی معیاد کے ساتھ مملکتی کونسل47اراکین میں مخلوعہ نشستوں پر ہرسال کے ماہ اکٹوبر میں تقرر کا فیصلہ یواین جنرل اسمبلی کا ہوتا ہے۔

کونسل کے اس عمل میں امریکہ مصروف رہا ہے مگر سالوں سے اسنانی حقوق کمیشن برائے اقوام متحدہ رپبلکن اور ڈیموکریٹس انتظامیہ کے پیروں کا فٹ بال بنا ہوا ہے۔

پچھلے ماہ امریکی صدر کی حیثیت سے جائزہ لینے کے بعد سے صدر جو بائیڈن پریس معاہدے اور ڈبلیو ایچ او میں دوبارہ شمولیت اختیار کی ہے ایران معاہدے پر واپسی اور یو این ای ایس سی او کی بحالی کا بھی اشارہ دیاہے۔