پیشوار میں نابالغ کی عصمت لوٹنے والے پاکستانی عالم کو سزائے موت

,

   

اسلام آباد۔ایک پاکستان کی عدالت نے ایک عالم کو دوسال قبل شہر پیشوار میں ایک اٹھ سالہ معصوم کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے معاملے میں سزائے موت سنائی ہے۔اخبار ڈاؤن کی خبر کے مطابق ہفتہ کے روز تحفظ اطفال کی ایک عدالت نے 2019میں ایک نابالغ کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا جرم انجام دینے والے ایک عالم کوسزائے موت سنائی ہے۔

پیشوار کے ساکن قاری سعید کو جج وادیا مشتاق ملک نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ376(3)کے تحت عصمت ریزی کا قصور وار قراردیا اور یہ سزاء سنائی ہے۔

اس عدالت نے یہ بھی فیصلہ سنایاکہ اس واقعہ کے سبب مذکورہ لڑکی طویل مدت تک شدید صدمہ سے دوچار ہوئی ہے لہذا مجرم 300,000روپئے سیوینگ سرٹیفکیٹ کی شکل میں لڑکی کو ادا کرے تاکہ 18سال کی عمر میں آنے کے بعد وہ اس رقم کو حاصل کرسکے۔

ملک نے اپنے احکامات میں کہاکہ ”جہاں تک سزا کا تعلق ہے تو اس میں کوئی تخفیف کی گنجائش نہیں پائی گئی۔ اٹھ سال کی معصوم کے ساتھ عصمت ریزی ہوئی ہے“اور مزیدکہاکہ مجرم ایک مسجد کاپیش امام ہے‘ جس نے اپنے کمروں میں یہ گھناؤنہ جرم انجام دیاہے۔

مذکورہ عدالت نے مانا یہ خاطی کے پاس اسلامیت کی ایک ماسٹر ڈگری بھی ہے اور اپنے مسجد میں جمعہ کی نماز کی بھی امامت کرتا ہے۔

اس آرڈر میں یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ جرم اور بھی گھناؤنہ ہوگیاہے کیونکہ خاطی نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے بلکہ کی گردن پر کاٹا بھی ہے۔

جج نے فیصلہ سنایاہے کہ ”معصوم کی گواہی کے بیان سے نہ صرف اعتماد متاثر ہوا بلکہ سچائی بھی پائی گئی ہے بلکہ اس کے مادی پہلو سے بھی انکارنہیں کیاگیاہے“۔

والد کی شکایت پر پولیس نے 14مارچ2019کو ایک جنسی بدسلوکی پر مشتمل ایف ائی آر درج کی تھی۔

مذکورہ شکایت کردہ نے کہاتھا کہ وہ اور اس کے گھر والوں اس وقت گھر ہی میں موجود تھے جب لڑکی روتے ہوئے باہر سے گھر لوٹی اور کہاکہ قاری سعید نے اس کو مسجد میں املیٹ دینے کالالچ دے کر بلایا مگر اس کے ساتھ روم میں جنسی بدسلوکی کی ہے۔

مجرم نے ان الزامات کو قبول نہیں کیا اور دعوی کیا کہ اس پر فرضی الزامات احمد کمیونٹی کی ایما پر لگائے جارہے ہیں جسکے خلاف وہ کھل کر بولتے ہیں۔ مگر تاہم وہ اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔