کفیل خان کے خلاف کاروائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یوپی حکومت کا الہ آبادہائی کورٹ میں بیان

,

   

الہ آباد۔گورکھپور کے ماہر اطفال ڈاکٹر کفیل خان کی برطرفی سے متعلق ایک کیس میں مذکورہ اترپردیش حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ کو جانکاری دی ہے کہ ایک او رمعاملے میں ان کے حلاف ایک آزادنہ ڈسپلنری کاروائی شروع کی گئی ہے اور اس پرعلیحدہ طور برطرفی کا ایک حکم نامہ جاری کیاگیاہے۔

ایڈیشنل اڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) کے مطابق مذکورہ کاروائی کا ابھی اختتام عمل میں نہیں آیاہے اور منظور شدہ برطرفی کے احکامات پر عمل درآمد جاری ہے۔ خان کو بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں آکسیجن کی قلت کے سبب 60معصوم بچوں کی اموات کے بعد برطرف کردیاگیاتھا۔

عدالت کی جانب سے اس سے قبل جاری کردہ احکامات میں جواب میں مذکورہ اے اے جی بتایا کہ 22اگست2017میں برطرفی کے بعد سے خان کو ڈائرکٹر میڈیکل تعلیم کے دفتر سے منسلک کردیاگیاتھا۔

اس کے بعد انہیں اس دفتر میں پیش آنے والے مختلف معاملات کے پیش نظر علیحدہ طور سے برطرف کردیاگیاتھا۔

اے اے جی کی اس پیشکش کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے جسٹس یشونت ورما نے دو ہفتوں کے اندر دوسری برطرفی کے حکم نامہ اور اب تک کے ضروری حقائق کو ایک حلف نامہ کے ذریعہ ریکارڈ کے انداز میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جو11اگست2017کی برطرفی کے احکامات کو اس سے قبل چیالنج کیاگیاتھا۔

اس عدالت نے معاملے کی اگلی سنوائی کے 31اگست کا وقت مقرر کیاہے۔ اگست6کے روز مذکورہ اترپردیش حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ کو 24فبروری 2020کے روز ڈسپلنری انتظامیہ کے احکامات کے متعلق جانکاری دی تھی‘ جب خان کے خلاف مزید تحقیقات سے دستبرداری کی ہدایت دی گئی تھی۔