ہلدوانی جھڑپوں میں چھ ”فسادی“ مارے گئے‘ چیف منسٹر نے اس کو ”منصوبہ بند حملہ“ قراردیا

,

   

جھڑپوں کے اگلے دن جمعرات کی رات 9بجے سے کرفیو نافذ کردیاگیا ہے‘ ہلدوانی‘ بند پھول پورا علاقے ویران دیکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر پتھر بکھرے ہوئے ہیں‘ اور جلی ہوئی گاڑیوں کے جلے ہوئے باقیات بھی پھیلے ہوئے ہیں


ہلدوانی۔ اتراکھنڈ کے ہلدوانی ٹاؤن میں کرفیو کی برقراری کے دوران اہلکاروں نے کہا کہ ایک غیر قانونی تعمیر مدرسہ کے انہدام پر رونما ہونے والے تشدد کے واقعات میں چھ فسادی مارے گئے ہیں۔

جمعرات کے روز 60سے زائد لوگوں کو نقصان ہوا جب مقامی مکینوں نے پولیس اور بلدی ورکرس پر پتھر برسائے اور پٹرول بم پھینکے تھے‘ جس کے بعد کئی پولیس اہلکارایک پولیس اسٹیشن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے جس کو بعد میں برہم ہجوم نے نذر آتش کردیاتھا۔

تین مختلف اسپتالوں میں جمعہ کے روز ایک صحافی سمیت سات لوگ زیرعلاج تھے۔ ان میں سے تین حالات کافی تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ دیگر کو اسپتال سے روانہ کردیاگیا ہے۔ سپریڈنٹ آف پولیس (سٹی)ہربنس سنگھ نے پی ٹی ائی کو بتایاکہ مجموعی طور پر چھ فسادی مارے گئے ہیں۔

جھڑپوں کے اگلے دن جمعرات کی رات 9بجے سے کرفیو نافذ کردیاگیا ہے‘ ہلدوانی‘ بند پھول پورا علاقے ویران دیکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر پتھر بکھرے ہوئے ہیں‘ اور جلی ہوئی گاڑیوں کے جلے ہوئے باقیات بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

جس مقام پر مدرسہ ہے جس میں ایک عمارت بھی شامل ہے جہاں نمازیں ادا کی جاتی ہے جس محلے سے جمعہ کے روز تشدد کے واقعات کی کوئی تازہ خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ اہلکاروں نے کہا کہ نینی تال سے قریب کے اس شہر میں 1000سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ منہدم عمارت سرکاری اراضی پر تھی اور میونسپل ورکرس اور پولیس نے عدالتی احکامات کے بعد یہ کاروائی انجام دی ہے۔ اہلکاروں نے کہاکہ چھتوں سے پتھر برسائے گئے جو ایسا لگتا ہے کہ پہلے سے جمع کرکے رکھے گئے تھے۔

مبینہ مارے گئے فسادیوں میں کچھ پر بندوق کی گولیوں کے زخم ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نینی تال(ڈی ایم) وندنا سنگھ نے فائرینگ کے احکامات کی تصدیق کی‘ فسادیوں کے پیروں پر گولی مارنے کی ہدایت کے ساتھ جب ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کردیاتھا۔

اتراکھنڈ پولیس سربراہ ابھینو کمار نے کہاکہ قومی سلامتی ایک کے تحت سخت کاروائی ان کے خلاف کی جائیگی جو پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث پائے جائیں گے۔

دہلی میں بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نے کہاکہ ہلدوانی تشدد ایسا لگا رہا ہے کہ ایک ”سازش“ ہے اور خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ڈی جی پی کمار نے حالات کے معمول پر آنے او راگلے چوبیس گھنٹوں میں معمول کے حالات کا یقین دلایاہے۔

چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے ہلدوانی کا دورہ کیااور کچھ زخمیوں سے ملاقات کی۔ انہو ں نے تشدد کو ایک”منصوبہ بند حملہ“ قراردیا او رکہاکہ ہتھیار‘ پتھر اور پٹرول بموں کا اسٹاک اس کی طرف توجہہ دلاتا ہے۔

انہوں نے رپورٹرس کو بتایا کہ ”ہماری خاتون پولیس اہلکاروں کی بے رحمی کے ساتھ پیٹائی کی ہے۔ انہوں نے ایک صحافی کو آگ کے شعلوں میں پھینکنے کی کوشش کی۔ جس کے لئے اتراکھنڈ جانا جاتا ہے اس امن سماجی اتحاد کے ماحول کو متاثرکرنے کی یہ کوشش کی گئی ہے“۔

پولیس کے ایک اہلکار نے کہاکہ تشدد کے کئے اکسانے میں 15سے 20کے قریب ملوث دیکھائی دے رہے ہیں۔ دہلی میں شیو سینا (یو بی ٹی) ایم پی پرینکا چترویدی نے بی جے پی کے تشکیل دئے گئے ”پولرائزشن“ کو تشدد کے لئے ذمہ دار ٹہرایا۔