ہندوستانی سائنس دانوں کوتپ دق میں کامیابی کی امیدیں

,

   

مضمرات وسیع ہیں اور ٹی بی کے علاج ومعلجہ کے امکانات کو کھول دیاہے
نئی دہلی۔ ہندوستانی سائنس دانوں نے اس بات کی تحقیق کرلی ہے کہ ٹی بی کے جراثیم انسانی جسم میں کس طرح پوشید ہ رہتے ہیں اور اس کی ایک ماہ میں علاج کی تجویز پر مشتمل حکمت عملی بھی پیش کردی ہے‘ جو موجودہ ماحول میں چھ ماہ کے علاج کے مقابل طریقے کار کے برعکس ہے۔

اس تحقیق میں ٹی بی کے جراثیم کی جانچ کے لئے پیچیدہ کشمکش کوچیالنج کیاگیا ہے اور اس بات کی تجویز سامنے ائی ہے کہ انویا امیونوسپریسنٹ دوائیں شامل کرنے سے تپ دق کے کے جراثیم کو ختم کیاجاسکتا ہے جو سالوں تک جسم میں برقرار رہتے ہیں۔

مذکورہ سائنس دانوں کی ٹیم جو اے ائی ائی ایم ایس اور جے این یو نئی دہلی سے ہے نے ٹی بی کے جراثیم کے مختلف اقسام دیکھائے ہیں جس کو مسینسیمل اسٹیم سیل کہاجاتا ہے‘ جہاں وہ حرکت کرنا بند کردیتے ہیں او رغیر فعل حالات میں پھسلیوں میں پسوت ہوکر اینٹی بائیو ٹیک ادوایات سے خود کو بچالیتے ہیں۔

متعدی امراض کے ماہر گوبردھن داس اور ان کی جے این یو اسکول برائے ملیکولر میڈیسن کے ساتھیوں نے جنھوں نے سب سے پہلے مسینسیمل اسٹیم سیل کی ٹی بی کے جراثیم میں موجودگی کو سمجھا ہے۔

کلینکل تحقیقات کے نام پر شائع ہونے والے شمار میں جمعہ کے روز اپنی اس تحقیق کی انہوں نے اشاعت بھی کی ہے۔

تحقیق کرنے والے اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ٹی بی کے جراثیم جسم کے کچھ خلیوں کومتاثر کرتے ہیں اور جہاں پر وہ زندہ رہتے ہیں اور ان جراثیم میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

جسم کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے۔ مذکورہ اے ائی ائی ایم ایس اور جے این یو کے سائنس دانوں نے اپنے لیباریٹری میں دو طرح کے خلیوں اور ٹی بی سے متاثرہ پھسلیوں پر اپنی تحقیق انجام دی ہے