یوپی۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے خلاف حکومت نے ایودھیا کے قریب میں ایک قدیم دور کی مسجد کو کیامنہدم

,

   

حیدرآباد۔بابری مسجد کی 1992میں شہادت کے بعد مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ کے خلاف اپنے شدید اکسانے والے ایک اقدام میں مذکورہ اترپردیش حکومت نے ہائی کورٹ کے احکامات کو بھی پامال کردیا اور باربنکی ضلع کے رام سینہی گھا ٹ شہر میں 100سال قدیم ایک مسجد کو زمین دوزکردیاہے۔

گارڈائین کے بموجب پیر کے روز اس علاقے میں پولیس اورسکیورٹی دستہ پہنچا اوراس کو صاف کیااور پھر بلڈوزرس لائے اور مسجد کو زمین دوز کردیا۔ پھر ملبہ ندی میں پھینکا اور سکیورٹی دستوں کو وہاں پر تعینات کردیا جو ایک میل کے علاقے تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ مسجد جہاں پر تھی وہاں کوئی نہیں آسکے۔

ایک مقامی امام مولانا عبدالمصطفیٰ جو مسجد کمیٹی میں ہیں نے کہاکہ یہ مسجد سالوں پرانی تھی جہاں پر ہزاروں لوگوں پانچ وقت کی نمازادا کرنے کے لئے آتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ ”تمام مسلمان خوف زدہ ہیں‘ لہذا کوئی بھی مسجد کے قریب نہیں گیااور نہ ہی انہدام کے وقت احتجاج کرنے کی ہمت کی۔آج کے دن بھی درجنوں لوگوں اپنے گھروں میں ہیں یا پھر پولیس کے ڈر سے دوسرے علاقوں میں چھپے ہوئے ہیں“۔

ضلع مجسٹریٹوں میں سے ایک ادرش سنگھ نے کہاکہ”میں کسی مسجد کے متعلق نہیں جاناتا۔ میں جانتاہوں کہ وہاں ایک غیر قانونی ڈھانچہ تھا۔ اترپردیش ہائی کورٹ نے اسکو غیر قانونی قراردیاتھا۔

اسی وجہہ سے علاقائی سینئر ضلع مجسٹریٹ نے کاروائی کی۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا“۔

گارڈائین کا کہنا ہے کہ مسجد کا انہدام ایک ہائی کورٹ کے احکامات کی جو 24اپریل کے روز جاری کئے گئے تھے کی خلاف ورزی ہے‘ جس کے تحت 31مئی تک نہ تو مسجد کو خالی کرنے اور نہ ہی منہدم کرنے کا حکم دیاگیاتھا۔

اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے اس مسجد کی مخالفت کی ہے‘ جس نے 15مارچ کو ایک وجہہ بتاؤنوٹس جکاری کرتے ہوئے مسجد انتظامیہ سے استفسار کیاتھا کہ کس طرح مسجد کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیاگیاہے اس کی وضاحت کریں اور انہدام کی منشاء پس پردہ یہ حوالہ دیاکہ زمین پر یہ عمارت غیر قانونی ہے۔

ایک تفصیلی جواب بشمول مسجد کی تعمیر کے متعلق دستاویزات اور1959میں لئے گئے برقی کنکشن کی تفصیلات مسجد کمیٹی کی جانب سے پیش کئے گئے مگر ان سرکاری ریکارڈس پر مقامی انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

مارچ18کے روز ”امکانی مسمار“ کا مسجد کو سامنا کرنے کی تشویش کے ساتھ مسجد انتظامیہ اترپردیش ہائی کورٹ سے رجوع ہوا تھا۔ مقامی انتظامیہ کو ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مسجدکو کس بنیاد پر غیرقانونی قراردیاجارہا ہے اور مسجد چونکہ سڑک پر نہیں ہے اور اس سے کیوں ٹریفک میں خلل پڑے گا پر مشتمل جواب داخل کرنے کو کہاگیاتھا۔

اس کے بعد کے دنوں میں ایک مستقل ڈھال 19مارچ کے روز تعمیرکی گئی تاکہ مسجد تک رسائی کو روکا جاسکے‘ جمعہ کی نماز ادا کرنے سے مقامی مسلمانو ں کو روک دیاگیا‘ جس کی وجہہ سے علاقے میں کشیدگی اور احتجاجی کرنا پڑا۔

گارڈائین کے بموجب احتجاج کرنے والے 35مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیاگیا‘ وہیں کئی او راب بھی گرفتار کئے جارہے ہیں اور احتجاجیوں کے خلاف پولیس کی جانب سے شکایتیں درج کی جارہی ہیں۔

اپریل میں مسجد کمیٹی نے مفاد عامہ کے تحت ایک درخواست ہائی کورٹ میں دائر کی جس پر 24اپریل کے روز ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے کہ31-05-2021تک کسی بھی قسم کی مداخلت‘ مسماری اور جگہ خالی کروانے پر ہمارے احکامات غالب رہیں گے“۔

ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود مذکورہ یوپی انتظامیہ نے پیر کے روز مسجد کو منہدم کردیا۔ علاقے کے مقامی مسلمان اور مسجد کمیٹی کے ذمہ داران نے کہاکہ انہیں نشانہ بنائے جانے اورگرفتاری کے خوف سے وہ چھپ گئے۔

اپنے ایک بیان میں سنی وقف بورڈ اترپردیش کے چیرمن ظفر احمد فاروقی نے کہاکہ ”اس کا روائی کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں‘ جس کے ذریعہ انہوں نے 100قدیم مسجد کو منہدم کردیاہے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ انہدام قطعی غیر قانونی ہے اور 24اپریل کے روز ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی واضح خلاف ورزی ہے اور انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیاہے۔

مذکورہ مسجد جس علاقے میں تھی وہ ایودھیا سے جڑاہے جہاں پر 1990میں انہدام سے قبل ایک وقت بابری مسجد کھڑی تھی۔

سال 2019میں ائی عدالت کے متنازعہ فیصلے میں مذکورہ ججوں نے اعلان کردیاکہ قانونی طور پر یہ اراضی مسلمانوں کے بجائے ہندوؤں کی ہے اور جہاں پر کبھی بابری مسجد تھی وہاں پر ایک نیارام مندر زیر تعمیرہے