UMEED پورٹل پر ’’رائے درگ‘‘ اراضی ’’مصدقہ وقف‘‘ جائیداد

   

’’جامعہ نظامیہ وقف‘‘
وقف بورڈ کے پاس موجود تمام دستاویزات کو فوری محفوظ کیا جانا ضروری، بورڈ کے حکام پر دباؤ، محکمہ اقلیتی بہبود خاموش

حیدرآباد۔24۔جون(سیاست نیوز) حکومت ہند نے ملک بھر کے مسلمانوں اور موقوفہ اداروں کے متولیان و سجادگان کو اس بات کا اطمینان دلایا تھا کہ UMEED پورٹل پر جن جائیدادوں کا اندراج ہوگا وہ موقوفہ جائیدادیں ہمیشہ کے لئے وقف تصور کی جائیں گی۔ حکومت ہند کی اس طمانیت کے بعد طویل مدت تک احتجاج کرتے ہوئے UMEED پورٹل پر اندراجات کی مخالفت کرنے والے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف جائیدادوں کو اس پورٹل پر درج کروانے کے لئے مہم چلائی اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور تلنگانہ وقف بورڈ نے جامعہ نظامیہ کے تحت موجود انتہائی قیمتی موقوفہ اراضی کو بھی UMEED پورٹل پر درج کروایا اور اس جائیداد پر کسی بھی گوشہ سے اعتراض نہ کئے جانے کے نتیجہ میں جائیداد کو پورٹل پر APPROVED بھی کیا جاچکا ہے۔ اس طرح حکومت تلنگانہ نے سروے نمبر 83/1 میں موجود اراضی کو ہراج کے ذریعہ فروخت کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ روپئے جو حاصل کئے ہیں وہ دراصل UMEEDپورٹل پر محفوظ کی جانے والی جائیداد کو ہراج کیا گیا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے وقف قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اس موقوفہ جائیداد کو توجہ دہانی کے باوجود ہراج کے ذریعہ فروخت کیا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے مذکورہ جائیداد کا اعلامیہ جاری کئے جانے کے ساتھ ہی ’جامعہ نظامیہ ‘ کے ذمہ داروں نے متعلقہ عہدیداروں اور حکام سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں تحریری طورپر یادداشت حوالہ کرتے ہوئے اس بات سے واقف کروایا تھا کہ یہ جائیداد ’جامعہ نظامیہ ‘ کے لئے وقف ہے اور اس جائیداد سے متعلق CRP تلنگانہ ہائی کورٹ میں زیر دوراں ہے۔ 237 کروڑ روپئے فی ایکڑ ہراج کے ذریعہ فروخت کی جانے والی اس جائیداد کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر ‘ ریوینیو ڈویژنل آفیسر اور تحصیلدار سے نمائندگی کے باوجود حکومت کی ایماء پر اس ہراج کے عمل کو مکمل کیا گیا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے ذرائع کا کہناہے کہ بورڈ نے تلنگانہ میں موجود تمام موقوفہ جائیدادوں کو UMEED پورٹل پر درج کروانے کے جو اقدامات کئے ہیں اس کے تحت ’رائے درگ‘ میں موجود ’جامعہ نظامیہ ‘ کے تحت وقف جائیداد کو بھی پورٹل پر درج کرواتے ہوئے تمام دستاویزات کی جانچ اور منتخب و ’’کتاب الاوقاف‘‘ کے اندراجات کی بنیاد پر تفصیلات اپ لوڈ کی گئی تھیں اور اس جائیداد کے میکر‘ چیکر اور اپروور کی جانب سے تنقیح و توثیق کے بعد اس جائیداد کو UMEED پورٹل پر APPROVED یعنی مصدقہ وقف جائیداد کا موقف حاصل ہوچکا ہے اور پورٹل کے قوانین کے مطابق مذکورہ جائیداد کو مصدقہ قرار دیئے جانے کے بعد اس وقف جائیداد کا شناختی نمبر بھی جاری کیا جاچکا ہے۔مرکزی وزارت اقلیتی امور کے تحت چلائے جانے والے UMEED پورٹل پر درج اس وقف جائیداد کا شناختی نمبرTS0518E14RR22DA001 ہے جو کہ پورٹل پر موجود ہے۔ جنوبی ہند کی عظیم دینی درسگاہ ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کے تحت موجود اس موقوفہ جائیداد کو فروخت کئے جانے کے معاملہ میں محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے اور انتہائی قیمتی موقوفہ جائیداد کی سرکاری طور پر فروخت کے معاملہ میں کسی بھی طرح کا ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا جا رہاہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ پر یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ وہ اس جائیداد کی قانونی پیچیدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے جائیداد سے محرومی کے لئے ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کو مورد الزام ٹھہرانے کی تیاری کریں تاکہ حکومت اس انتہائی قیمتی اراضی کی فروخت سے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے مذکورہ سروے نمبر میں موجود دیگر اراضیات کو بھی بہ آسانی فروخت کرسکے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی مسلمانوں سے جڑے اس انتہائی اہمیت کے حامل مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں کہ اس اراضی کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے حالانکہ ’’جامعہ نظامیہ ‘‘ کی یہ موقوفہ جائیداد کا نہ صرف ’وقف نامہ ‘ اور ’’منتخب‘‘ موجود ہے بلکہ یہ جائیداد نئے قوانین وقف 2025 کے مطابق UMEED پورٹل پر درج کئے جانے کے بعد ’’مصدقہ ‘‘ وقف جائیداد کی حیثیت قرار پاچکی ہے۔ ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششیں اور اس جائیداد کو حکومت کے حوالہ کی جانے کی سازشوں کے سلسلہ میں 1990 سے قبل سے کی جانے والی سازشوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے وہ تمام دستاویزات موجود ہیں جو کہ وقف بورڈ کے ذمہ داروں اور حکومت کے آلہ کاروں کی نگرانی میں کی گئی تھیں اور اس کے لئے عدالتوں کا سہارا لینے کے علاوہ ارباب ’جامعہ نظامیہ ‘ اور عوام کو گمراہ کیا جاتا رہا ہے لیکن اب جو موقع میسر آیا ہے قانونی ماہرین کے مطابق وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرممہ قوانین وقف 2025 کے تحت تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اور محکمہ مال کے عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔3