تہران : ایران کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی نے ملک میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد دو ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں اور ہنگاموں پر کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے ایوان اقتدار میں تبدیلی ممکن ہے نہ اس کی ضرورت ہے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ کم سے کم قیمت ادا کرتے ہوئے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر سسٹم کے اندر سے اصلاح کر لی کی جائے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘یہ اصلاح ڈھانچہ جاتی بھی ہونی چاہیے اور رویوں کی سطح پر بھی۔’سابق صدر نے یہ بات ایک اصلاح پسند اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ہے۔ محمد خاتمی 1997 سے 2005 تک ایران میں منصب صدارت پر فائز رہے ہیں۔ ان کے یہ خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی حکام احتجاجی مظاہروں کو فساد قرار دیتے ہیں اور اس کے پیچھے ملک کے مغربی دشمنوں کا کردار سمجھتے ہیں۔