181 اسکولوں کا بقایا 15 لاکھ سے زائد، حکام کی بے حسی
حیدرآباد۔/9 نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز کی اجرائی کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن آج بھی کئی سرکاری اسکولس برقی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں اور بقایا جات کی عدم ادائیگی پر برقی سربراہی منقطع کردی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے برقی بلز کے بقایا جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں محکمہ برقی کا دباؤ بڑھنے لگا ہے اور حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکولوں کی کشادگی کے بعد سے سرکاری اسکولس برقی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ کئی اسکولوں میں صاف پینے کے پانی کی سربراہی اور طلبہ کیلئے فرنیچر دستیاب نہیں ہے۔ برقی کی عدم سربراہی کے نتیجہ میں طلبہ کو کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں 181 ہائی اسکولس کا برقی بقایا 15 لاکھ روپئے کے قریب ہے۔ سابق میں چار ماہ میں ایک مرتبہ برقی بلز جاری کئے جاتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ مقررہ مدت گذرنے کے باوجود بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ حال ہی میں حیدر گوڑہ میں واقع گرلز ہائی اسکول کی برقی منقطع کردی گئی جس کے خلاف طلبہ نے احتجاج منظم کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ برقی اور تعلیم کے عہدیداروں میں تال میل کی کمی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے اسکولوں میں بنیادی سہولتوںکی فراہمی کیلئے 1000 کروڑ سے زائد کا بجٹ جاری کیا گیا تھا لیکن شہر میں 181 اسکولوں کے برقی بقایاجات سے محکمہ کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ر