ماسکو : روس نے یوکرین پر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس میزائل کے استعمال سے مغرب کو ایک سنجیدہ پیغام بھیجنے پر زور دیا ہے۔پوتن نے کہا کہ اورشینک سسٹم کی ہماری جانچ روس کے خلاف نیٹو کے جارحانہ اقدامات کا براہ راست جواب ہے۔” انہوں نے اسی طرح کے حملے جاری رہ سکنے کی طرف اشارہ بھی دیا۔ان کا کہنا تھاکہ ایسے میزائلوں کی مزید تعیناتی کے فیصلے کا انحصار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اقدامات پر ہوگا۔روس نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہفتے کے دوران 5 امریکی ساختہ اٹاکمس میزائلوں کو مار گرایا گیا ہے۔دو برطانوی اور فرانسیسی ساختہ اسٹارم شیڈومیزائلوں کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔اْدھر یوکرینی صدر ِ مملکت وولادیمر زیلنسکی نے کہا ہے کہ پوتن جنگ کو وسعت دینے کے اقدامات کر رہے ہیں۔زیلنسکی نے کہاکہ پوتن کھلم کھلا یوکرین کو ایک آزمائشی میدان کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر کوئی ملک صرف خود مختار بننااور خود مختار رہنا چاہتا ہو تو وہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرتا ہے۔کشیدگی میں اضافے نے روس کے پڑوسیوںکو بھی متحرک کیا ہے۔قازقستان کے صدر قاسم جومیرت توکا یف نے اہم فوجی اورسیول مقامات کی سیکیورٹی کے لیے ہنگامی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات کی ہیں۔