جامع مسجد ممبئی ٹرسٹ کے صدر کی بی جے پی میں شمولیت پر تنازعہ

   

ممبئی : جامع مسجد ممبئی ٹرسٹ کے صدر شعیب خطیب کے بی جے پی میں شمولیت کی خبر پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے اور اس فیصلے کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے اور مسلمانوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے لیکن جامع مسجد ٹرسٹ کے چیئرمین نذیر ٹنگیکر نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مذکورہ ٹرسٹ یاٹرسٹ کا کوئی بھی ٹرسٹی کسی بھی سیاسی پارٹی میں شامل ہوا ہے ،جبکہ ماضی اور مستقبل میں کسی بھی سیاسی جماعت سے منسلک یا اس کی پشت پناہی نہیں حاصل کرے گا۔انہوں نے اسے جعلی خبرقرار رہتے ہوئے کہاکہ یہ ایک چونکا دینے والا معاملہ ہے ۔مسجد ٹرسٹ کے صدر بی جے پی میں شامل کی سرخی کے ساتھ ایک معتبر انگریزی میں سنئیر مسلم صحافی کی بجائے لائن کے ساتھ خبر شائع کی گئی ہے ۔خبر کے مطابق جامع مسجد بمبئی ٹرسٹ کے صدر شعیب خطیب نے ہفتہ کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ خطیب، ایک اور ٹرسٹی حسیب عظیم کرکیرے کے ساتھ، مسجد ٹرسٹ کے دفتر میں بی جے پی ممبئی صدر اور ایم ایل اے آشیش شیلار اور پارٹی کے دیگر لیڈروں جیسے حیدر اعظم، سنجے اپادھیائے ،کارپوریٹر اتل شاہ اور ایم ایل اے راج پروہت کی موجودگی میں پارٹی میں شامل ہوئے ۔بلکہ ایک ممبر نے کہاکہ شعیب خطیب نے بی جے پی کو صدر کی کرسی پر بیٹھایا اور اس طرح کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس میں بی جے پی ممبئی کے صدر اشیش شیلار چیئرمین کی کرسی پر براجمان ہیں اوران کے دائیں حیدر اعظم اور بائیں ٹرسٹ کے ٹرسٹی شعیب خطیب بیٹھے ہیں۔خبر کے مطابق آنے والے بلدی ،اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر اس اقدام کو اہم سمجھا جا رہا ہے ۔