11 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا منصوبہ ۔ تفصیلات کو قطعیت دینے کی تیاریاں جاری
حیدرآباد۔15۔نومبر(سیاست نیوز) دنیا بھر میں ملازمتوں سے برطرفی کا سلسلہ رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیںکیونکہ ٹوئیٹر سے ہزاروں ملازمین کو برطرف کرنے کے بعد فیس بک میٹا نے اپنے تمام اداروں و کمپنیوں سے زائد از 11ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں ہی کمپنیوں سے برطرفی کا سلسلہ جاری ہے علاوہ ازیں دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پارہی کمپنی ’امیزان‘ نے اپنے 11 ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ امیزان سے 11ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا عمل جاریہ ہفتہ شروع ہوجائے گا اور اس برطرفی کے دوران متاثر ہونے والے ملازمین کو کمپنی سے امکانی مدد کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے کیونکہ فیس بک میٹا نے اپنے ملازمین کی برطرفی کے بعد امریکہ میں H1B ویزاپر موجود ملازمین کو چند ماہ تک ایمگریشن خدمات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی بعض ملازمین کیلئے نوٹس کی مدت تک ویزا سہولتوں کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن واضح کیا کہ وہ اپنے برطرف ملازمین کی کسی معاشی مدد کے موقف میں نہیں ہے۔اسی طرح امیزان سے بھی توقع ہے کہ برطرف ملازمین کو کسی قدر راحت پہنچانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور منصوبہ کو قطعیت دیئے جانے کے بعد ہی ملازمین کو برطرفی سے مطلع کئے جانے کا امکان ہے۔ ان بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی کے متعلق ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کمپنیاں اخراجات پر قابو پاکر امکانی معاشی انحطاط کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کی کوشش میں یہ اقدامات کر رہی ہیں لیکن ان کے یہ اقدامات معاشی استحکام میں رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ پر معاشی انحطاط روکا جانا مشکل ہوجائے گالیکن ملازمین کو برطرف کرنے والی کمپنیوں کی کاروائیوں کو مختلف نظریات سے دیکھا جانے لگا ہے جن میں سب سے اہم انفارمیشن صنعت میں آرٹیفیشل انٹلیجنس اور روبوٹیک روشناس کرونا تصور کیا جا رہاہے۔م