Monday , October 21 2019

شہریت ترمیم بل کو دوبارہ متعارف کروانے کے لئے آر ایس ایس کا ہوگا استفسار

ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ این آر سی سے کوئی نتائج برامد نہیں ہوں گے اورآسام غیرملکیوں سے آزاد نہیں ہوگا۔

گوہاٹی۔ مذکورہ راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ مودی حکومت سے اس بات کااستفسار کرے گی کہ وہ ڈسمبر سے قبل تک شہریت ترمیم بل دوبارہ متعارف کرائے۔

یہ اقدام اس وقت اٹھایاجارہا ہے کہ قومی راجسٹرار برائے شہریت میں 1906657لوگوں کے نام شامل نہیں ہیں جس میں مانا جارہا ہے کہ اکثریت ہندوؤں کی ہے۔

آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش پر کہا ہے کہ ”ہم کہتے رہیں کہ این آر سی این سی ی 2.22فیصد سے کوئی نتائج برامد نہیں ہوں گے اور آسام غیرملکیو ں سے آزاد نہیں ہوگا۔

موجودہ این آر سی نے اس کو سچ ثابت کردیا۔بڑی تعداد میں ہندوؤں او ردیگر طبقات کو این آر سی سے نکال دیاگیاہے۔ ہم مرکز پر دباؤ ڈالیں گے وہ شہریت بل میں ڈسمبر تک ترمیم لائے‘ جو غیرملکی ٹربیونل میں درخواست پیش کرنے کے فوری بعد ہوگا۔یہ این آر سی قطعی نہیں ہوگا“۔

مذکورہ بل کا مقصد ہندوؤں‘ سکھوں‘ بدھسٹوں‘ جین پارسی اور عیسائی جو کہ افغانستان‘ بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین ہیں مستقبل ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کے لئے فبروری میں لوک سبھا میں منظوری دی ہے

اور اس کے پیش نظر شمال مشرقی ریاستوں کی مختلف تنظیموں کو اس بات کا ڈر تھا کہ پڑوسی ریاست سے پناہ گزینوں کا سیلاب امنڈ پڑے گا۔

تاہم بی جے پی کے2019کے منشور کا کہنا ہے ”تشدد اور زیادتیوں کا شکار پڑوسی ممالک سے راہ فرار اختیار کرکے ہندوستان میں پناہ لینے والے اقلیتی طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے

ہم ترمیم شدہ سٹیزن شپ بل کو کارگرد بنانے کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہیں“۔

آر ایس ایس لیڈر نے کہاکہ بہت ساری تنظیمو ں نے سپریم کورٹ کا رخ کرتے ہوئے کہاکہ جولائی2018میں شائع این آر سی کے 20فیصد مسودہ کی دوبارہ جانچ کامطالبہ کررہے ہیں

ان علاقوں میں جو بنگلہ دیش کی سرحد کے اضلاع ہیں اورآسام کے دیگر اضلاعوں میں د س فیصد کی مانگ کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کئی لوگ اعتراضات داخل کئے ہیں مگر سنوائی کے دوران موجود نہیں رہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”ہم کل ہند این آر سی کے لئے بھی دباؤ ڈالیں گے۔

آسام تازہ ترین این آر سی نے حوصلہ دیا ہے۔ بالآخر ہم ایک قوم ہیں اور ایک این آر سی ہیں۔

ہم نے اپنے والینٹرس سے استفسار کیاہے کہ وہ حقیقی شہریوں کے لئے اپنے خدمات پیش کرے“

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT