افغان بحران کے لئے ٹرمپ نے جو بائیڈ ن کو ذمہ دار ٹہرایا‘ استعفیٰ کی مانگ کی

,

   

رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ تحریک بہت جلد اسلامی امارات برائے افغان کی دوبارہ نفاذ کااعلان کرے گا
واشنگٹن۔سابق صدر امریکہ ڈونالڈ مرمپ نے افغان حکومت گرنے اور طالبان کے افغانستان کے درالحکومت کابل پر قبضے کے بعد اپنے جانشین جو بائیڈن سے استعفیٰ کی مانگ کی ہے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ بیان میں کہاکہ اب یہ وقت امریکی صدر جوبائیڈن کو اپنے کام سے دستبردار ہوجانا چاہئے اور استعفیٰ دیدینا چاہئے ”جو افغانستان میں ہورہا ہے اس کو منظوری دینے کی وجہہ سے‘ اس کے ساتھ کویڈ19میں حیرت ناک اضافہ‘ سرحد ی تباہی‘ توانائی کی آزادی کی تباہی‘ اور گرتی معیشت کے لئے انہیں یہ کام کردیناچاہئے“۔

مذکورہ سابق امریکی صدر نے کہاکہ ”یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے“ ٹرمپ کے بیان کے مطابق‘ بائیڈن”اکثریت کے ساتھ بائیڈن پہلے مقام پر منتخب نہیں ہوئے ہیں“!۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اتوار کے روز افغان حکومت گر گئی‘صد ر اشرف غنی ملک چھوڑ کر چلے گئے اورطالبان درالحکومت میں داخل ہوئی ہے۔

طالبان کے دہشت گردوں نے افغان کی درالحکومت کابل پر اپنے کنٹرول اور صدراتی محل کو اپنے قبضے میں لے لیاہے۔رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ تحریک بہت جلد اسلامی امارات برائے افغان کی دوبارہ نفاذ کااعلان کرے گا۔

درایں اثناء مذکورہ وائٹ ہاوز کے مشیر وں نے گہرے افغان بحران پر اپنے صدر جو بائیڈن کس طرح بات کریں گے اس پر تبادلہ خیال کیاہے‘ تاہم اس پر قطعی فیصلہ نہیں ہوا ہے کہ آیا انہیں اپنے اگست کی چھوٹیوں کے منصوبے سے واشنگٹن واپس لوٹنا چاہئے۔

اسکے علاوہ وائٹ ہاوز کے باہر احتجاج بھی منعقد ہوا جس میں مظاہرین نے شور ش زدہ ملک کی عوام کے ساتھ دھوکہ دہی کا بائیڈن پر الزام لگایا اور پاکستان پر امتناعات عائد کرنے کی مانگ کی۔ اتوارکے روز وائٹ ہاوز کے باہریہ احتجاج کیاگیاہے۔