جنتر منتر پر ’ناٹ ان مائی نیم‘ احتجاج این آر سی کے خلاف

,

   

ہفتہ کی دوپہر سینکڑوں کی تعدادمیں لوگ دہلی کے جنتر منتر پر اکٹھا ہوئے تاکہ شہریت ترمیمی ایکٹ‘ اور امکانی این آرسی کے خلاف احتجاج کرسکیں۔ منتظمین کا کہنا ہے شرکاء کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور پولیس کا کہنا ہے کہ موقع پر تین سو لوگ ہی جمع تھے

نئی دہلی۔ اپنے احتجاج کو ’ناٹ ان مائی نیم‘ کی مہم میں تبدیل کرتے ہوئے اورہاتھوں میں پئے کارڈس تھامے جس پر ”ہم سی اے بی کی مخالفت کرتے ہیں‘ آسام جل رہا ہے“ اور ”ہندوستان مسترد کرتا ہے این آرسی“مظاہرین 3بجے شام کے وقت جمع ہوئے۔

اسی مقام سے پچاس میٹر کی دوری پر جہاں ہندوستان کے شمال مشرق سے لوگ بھی احتجاج کررہے تھے۔ دونوں گروپوں کا مطالبہ ہے کہ مکمل طور پر سی اے اے کو واپس لایاجائے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے شہریت ترمیمی بل (سی اے بی جو صدر جمہوریہ نے اپنے دستخط کے ذریعہ قانون بنادیاہے) کو غیر ائینی قراردیا اور کہاکہ یہ این آر سی کے لئے راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ”اگرکسی سے مذکورہ ملک میں اس کی شہریت پوچھی جاتی ہے تو وہ خود ہی غیرائینی عمل ہوگا“۔

بھوشن کے علاوہ کئی سماجی کارکن جیسے ہرش مندر‘ انیا راجا‘ گوہر رضا اور راہول رائے بھی تقریب میں یونیورسٹی طلبہ‘ اساتذہ اور آرٹسٹوں کے ساتھ شامل تھے۔

سعیدہ سیدین حمید سابق رکن قومی ویمن کمیشن نے کہاکہ احتجاج ضروری ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اظہار یگانگت کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

جمعہ کے روز جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پیش ائی بربریت کی تفصیلات پیش کرنے کے لئے دو خواتین شہہ نشین پر پہنچ گئیں۔تھیلیوں پر بھر کر لائے گئے ایکٹ کی کاپیوں کو لوگوں نے گھیرا بناکر پھاڑا اور کہاکہ کاپیوں کاکچرا وہ راشٹرپتی بھون کے روبرو جمع کرائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس(نیودہلی) ایشا سنگھال نے کہاکہ تقریب میں کوئی تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیاہے۔

ڈی سی پی نے کہاکہ ”دوگھنٹوں کے لئے جن پتھ ریلوے اسٹیشن کے اندر جانے او رباہر آنے کے راستے کو بند کردیاگیاتھا۔ مظاہرین بسوں‘ میٹرو اور اٹورکشاؤں میں یہاں پر پہنچے۔

علاقے میں کسی بھی مقام پر کوئی ٹریفک میں خلل کا واقعہ پیش نہیں آیاہے“