قرآن کی بے حرمتی کو ہندوستان نے سختی کے ساتھ کیامسترد‘ اس طرح کی کاروائیوں کے خلاف یو این ایچ آر سی میں دیاووٹ

,

   

مسودہ پاکستان نے پیش کیاکہ جو ”اقوام متحدہ کے اسٹیٹ ممبرس کی جانب سے تھا جوآرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن کے اراکین‘’کے علاوہ مملکت بھی شامل ہے۔


اقوام متحدہ۔قرآن پاک کی بے حرمتی کے حالیہ ”عوامی او رمنصوبہ بند“ اقدامات اورسختی کے ساتھ اس طر ح کی کارائیوں کو مسترد کرنے پر مشتمل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کردہ مسودہ قرارداد کے حق میں ہندوستان نے ووٹ دیاہے۔

جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کی 47رکنی انسانی حقوق کونسل نے مذہبی منافرت کے خلاف قرارداد کا مسودہ منظور کیا جس میں امتیازی سلوک‘ دشمنی‘ یاتشدد پر اکسایاجانے کی مذمت کی گئی ہے‘ جس کے حق میں 28اراکین نے ووٹ دیا‘ سات غیرحاضرین اور 12ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

ہندوستان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیاجس میں ”قرآن پاک کی بے حرمتی کی حالیہ عوامی او رپہلے سے طئے شدہ کاروائیوں کی مذمت اورسختی کے ساتھ اس کومسترد کیاگیاہے او رمذہبی منافرت کی ان کارائیوں کے مرتکب افراد کو بین الاقوامی سطح پر پید ا ہونے والی ریاستوں کی ذمہ داریوں کے مطابق محاسبہ کرنے کی ضرورت پر زوردیتا ہے‘ جو عالمی انسانی حقوق کے قانون کا حصہ ہیں“۔

جنھوں نے ووٹ دیا ہے ان میں بنگلہ دیش’چین‘ کیوبا‘ ملیشیاء‘ مالدیپ‘ پاکستان‘ قطر‘ یوکرین او رمتحدہ عرب عمارت بھی شامل ہیں۔ جنھوں نے قرارداد کے خلاف میں ووٹ دیا ہے ان میں بلجیم‘ فن لینڈ‘ فرانس‘ جرمنی‘ یوکے اور امریکہ کے نام شامل ہیں۔

مسودہ پاکستان نے پیش کیاکہ جو ”اقوام متحدہ کے اسٹیٹ ممبرس کی جانب سے تھا جوآرگنائزیشن آف اسلامک کواپریشن کے اراکین‘’کے علاوہ مملکت بھی شامل ہے۔

اس نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق کے کونسل کے تمام متعلقہ خصوصی طریقہ کار پر زوردیا کہ وہ اپنے متعلقہ مینڈیٹ کے اندر‘ مذہبی منافرت کی وکالت کے خلاف آواز اٹھائیں‘جس میں مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی کاروائیوں جو امتیازی سلوک‘ دشمنی کو اکساتی ہیں اس میں شامل ہیں۔

یاتشدد اور قومی قوانین‘ پالیسیوں او رطریقوں میں موجودہ خلاء کو جانچنے کے عمل میں حصہ ڈالیں اور ازالے کے اقدامات کی سفارش کریں“۔

اس میں ممالک سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے قومی قوانین‘ پالیسیوں او رقانون نافذ کرنے والے فریم ورک کی جانچ پڑتال کریں تاکہ ایسے خلاء کی نشاندہی کی جاسکے جوامتیازی سلوک‘ دشمنی اور تشدد کو اکسانے والے مذہبی منافرت کی وکالت اور کاروائیوں کی روک تھام اور قانونی کاروائی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور اس خلاف کو دو ر کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں“۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر والکر ترک نے کہاکہ اس موضوع پر بحث حال ہی میں قرآن کی بے حرمتی کرنے کے واقعات کی وجہہ سے شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”یہ او ردیگر واقعات ایسا لگتا ہے کہ حقارت کے اظہار اورغصے کو بھڑکانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے‘ اشتعال دلانے‘ نظریاتی اختلافات کو نفرت اور تشدد میں تبدیل کرنے کا مقصد اس کے پس پردہ کارفرما ہے“۔