امریکہ ۔ ایران امن معاہدہ

   

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ کو تقریبا قطعیت دی جاچکی ہے اور یہ بھی اعلان ہوچکا ہے کہ آئندہ جمعہ کو سوئیٹزر لینڈ میں اس معاہدہ پر دستخط کئے جائیں گے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ معاہدہ کو انہوں نے منظوری دیدی ہے اور اس پر جمعہ کو دستخط کئے جائیں گے ۔ پہلے کہا جا رہا تھا کہ گذشتہ اتوار کو پاکستان میں اس معاہدہ پر دستخط ہونگے تاہم اسرائیل نے اس کو سبوتاج کیا ۔ اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کرتے ہوئے امن معاہدہ کو سبوتاج کیا ہے اور اب جو معاہدہ قطعیت پا رہا ہے اس کو بھی اسرائیل تسلیم کرنے تیار نہیں ہے اور یہ اندیشے اب بھی موجود ہیں کہ اسرائیل کی جانب سے کوئی نہ کوئی کارروائی کرتے ہوئے اس معاہدہ کو بھی سبوتاج کرنے کی سازش اور کوشش ضرور کی جاسکتی ہے ۔ جس وقت یہ اعلان کیا گیا تھا کہ امن معاہدہ پر اتوار کو دستخط ہونگے اسی وقت ایران نے یہ واضح کردیا تھا کہ اتوار کو معاہدہ پر دستخط کا امکان نہیں ہے تاہم ایران یہ ضرور کہا تھا کہ آئندہ دنوں میں معاہدہ پر دستخط کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اب صدر ٹرمپ کی جانب سے جمعہ کو معاہدہ پر دستخط کا اعلان کیا گیا ہے تو ایران کی جانب سے کوئی تردید نہیں کی گئی ہے ۔ اس طرح یہ اشارے ملے ہیں کہ معاہدہ تقریبا طئے پا گیا ہے ۔ معاہدہ میں جو امور شامل کئے گئے ہیں ان پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور خود مشرق وسطی کے کئی ممالک نے بھی اس معاہدہ کو منظوری دیدی ہے اور اب اس پر دستخط باقی ہے ۔ کہا گیا ہے معاہدہ پر دستخط سے قبل دوحہ میںامریکہ اور ایران کے وفود تکنیکی امور کا جائزۃ لیں گے اور ان کی بات چیت ہوگی ۔ یہ امن معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میںتوانائی سپلائی کے تعلق سے جو مسائل پیدا ہوئے تھے انہیں دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ امریکہ اور ایران کے مابین دیرپا امن قائم ہونے کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا اور اس کے نتیجہ میںسارے مشرق وسطی میں حالات کو استحکام حاصل ہوسکتا ہے ۔ معاہدہ صرف امریکہ اور ایران کیلئے ہی نہیں بلکہ سارے مشرق وسطی کے ممالک کیلئے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔
ایران کے خلاف جس وقت جنگ شروع کی گئی تھی اس وقت یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل بڑی طاقتیں ہیں اور چند دن میں ایران کو ختم کردیا جائے گا ۔ خود ٹرمپ نے بھی ایک سے زائد مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے تاہم وقت نے ثابت کردیا کہ یہ محض زبانی جمع خرچ تھا اور ایران نے اپنے موقف پر ڈٹ کر ان بڑی طاقتوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اب انہیں معاہدہ کیلئے مجبور بھی کردیا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ امریکہ اور اسرائیل نے مل کر کی تھی تاہم اب امریکہ خود اپنے طور پر معاہدہ کیلئے مجبور ہوا ہے اور اس معاملے میں اسرائیل کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اسرائیل اس معاہدہ پر اپنی بھڑاس نکال رہا ہے ۔ یہ دھمکٹیاں دی جا رہی ہیں کہ اسرائیل کی سکیوریٹی کو خطرہ لاحق ہواتو وہ اپنے دفاع میں کارروائی کا حق رکھتا ہے ۔ در اصل اسرائیل نہیںچاہتا کہ امریکہ اور ایران کے مابین کوئی معاہدہ ہو اسی لئے وہ اس کو سبوتاج کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بیروت پر حملہ بھی اسی کوشش کا حصہ تھا تاہم لبنان اور ایران نے انتہائی تحمل سے اور حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اسرائیل کو امریکہ سے دور کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے اور اب خود ٹرمپ بھی وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پہلے ہی سے نتن یاہو پر برہم دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ نتن یاہو نے جنگ کے تعلق سے امریکہ اور صدر ٹرمپ کو گمراہ کیا ہے ۔
امریکی صدر کی جانب سے معاہدہ کو قطعیت دینے کا اعلان کردیا گیا ہے اور اب دنیا چین کی سانس لے سکتی ہے ۔ ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی کے ذریعہ اس معاہدہ کو یقینی بنایا ہے ۔ ایران نے دنیا کی بڑی طاقت کے آگے سرنگوں ہونے سے انکار کردیا تھا اور اپنے موقف پر ڈٹا رہا تھا ۔ اس معاہدہ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا ۔ امریکہ کی جانب سے ایران کا آبی محاصرہ بھی ختم کردیا جائے گا اور ایران کے فنڈز بھی شائد مرحلہ وار انداز میں بحال کردئے جائیں گے ۔ ایران کیلئے یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اب ایران میں امن و سکون اور ترقی کی سمت نئی شروعات اور بہتر مستقبل کی امید کی جاسکتی ہے۔