سمجھوتا دھماکہ کیس۔ پاکستانی خاتون نے آسیما نند اور دیگر تین کو بری کرنے والے فیصلے کو کیاچیالنج

,

   

حافظ آباد کی ساکن راہیلا وکیل‘ جس کے والد محمد وکیل دھماکے میں مارے گئے تھے‘ نے اترپردیش کے ساکن اپنے ایک رشتہ دار کے ذریعہ اپیل داخل کرائی ہے

نئی دہلی۔سمجھوتا ایکسپرس 2007کے دھماکہ میں ہلاک ہونے والے68لوگوں میں سے ایک کی بیٹی‘ پاکستانی شہری نے جمعہ کے روز پنجاب اورہریانیہ ہائی کورٹ میں جمعہ کے روز اسیما آنند اور کیس کے دیگر تین ملزمین کی برات کو چیالنج پر مشتمل درخواست داخل کی ہے۔حافظ آباد کی ساکن راہیلا وکیل‘ جس کے والد محمد وکیل دھماکے میں مارے گئے تھے‘ نے اترپردیش کے ساکن اپنے ایک رشتہ دار کے ذریعہ اپیل داخل کرائی ہے۔

تاہم تکنیکی اعتراضات کی بناء پر سنوائی کے لئے اب تک ہائی کورٹ کے رجسٹری نے درخواست پر کسی قسم کی وضاحت نہیں کی ہے۔

راہیلا کی طرف سے نمائندگی کرنے والے وکیل مومن ملک نے کہاکہ ”ہم نے درخواست دائر کردی ہے اور بہت جلد اس پر سنوائی ہوگی۔

ہریانہ پولیس این ائی اے اور سنٹر ملزمین کے علاوہ اس معاملے میں جواب دہی کے ذمہ دار ہیں‘ جس کا موقف فی الحال رہائی کے ساتھ ہے۔

پنجوکولا کی خصوصی عدالت نے دھماکے کے بارہ سال بعد 20مارچ کے روز اسیما آنند‘ لوکیش شرما‘ کمل چوہان کے علاوہ راجندر چودھری کو بری کردیاتھا

۔ عدالت کو محسوس ہوا کہ ”دل دہلادینے والے تشدد کے اس واقعہ“ میں اب تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے اور اسکی وجہہ شوہد کی کمی اور جوابدہی کافقدان ہے۔

نہ تو این ائی اے اور نہ ہی مرکز نے اس کیس میں کوئی اپیل اب تک دائر کی ہے۔

اس کے برعکس فیصلے سے کچھ گھنٹوں قتل این ائی اے کے خصوصی جج جگدیب سنگھ نے وکیل کی جانب سے ان کے ملک کے عینی شاہدین کی گواہی کے لئے پیش کردہ درخواست کومسترد کردیاتھا