فلسطینیوں کے لئے مہلک ترین سال۔ سال2022میں اسرائیلی مظالم

,

   

موجودہ سال میں فلسطینیوں کے خلاف بے شمار اسرائیلی اپریشن انجام دئے گئے ہیں‘ ساتھ میں مغربی کنارے اور یروشلم میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور آبادکاروں کے حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا‘جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے ہیں


مذکورہ سال2022کو فلسطینیوں کے لئے سابق کے سالوں میں سب سے پرتشدد قراردیاجائے گا کیونکہ اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی حالات شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے سال2022کو فلسطینیوں کے لئے مقبوضہ مغربی کنارہ میں 2005سے اب تک کا سب سے مہلک ترین سال قراردیاہے‘ جس میں اسرائیل کی جانب سے زائد دستوں کا استعمال بھی شامل ہے۔

موجودہ سال میں فلسطینیوں کے خلاف بے شمار اسرائیلی اپریشن انجام دئے گئے ہیں‘ ساتھ میں مغربی کنارے اور یروشلم میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور آبادکاروں کے حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا‘جس کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے ہیں۔

سال2022میں کئی بے شمار قابل احترام صحافیوں کی ہلاکتیں پیش ائیں جس میں شیرین ابو عقیلہ کا نام بھی شامل ہے۔

مذکورہ اسرائیلی حکومت منظم انداز میں غیرانسانی کاروائی کو انجام دے رہی ہے‘ جس میں زیر تحویل ہلاکتیں‘ اذیتیں اور بنیادی انسانی حقوق سے انکار‘ مان مانی حراستیں اور اجتماعی سزائیں بھی شامل ہیں۔


سال2022میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم
(ذرائع۔ اقوام متحدہ اور میڈیارپورٹس)
او سی ایچ اے کے اشتراک اقوام متحدہ کے قومی دفتر کی جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ماہانہ اوسط کے مطابق جب سے اقوام متحدہ نے 2005سے منظم طریقے سے اموات ریکارڈ کرنا شروع کیاہے تب سے 2022تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لئے سب سے مہلک سال تھا۔

فلسطینی وزرات صحت کی رپورٹ کے بموجب 27ڈسمبر کے روز اسرائیلی دتوں نے مغربی کنارہ اور غازہ میں اسی سال 251فلسطینیوں کی جان لی ہے‘ جس میں 54بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں یافلسطینی علاقوں میں دراندازی کے دوران 9335فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اسی وقت کے دوران اسرائیلی افواج اور بازآباکاروں کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں 958بچے کم ازکم زخمی ہوئے ہیں اور 750سے زائد یاتو گرفتار کئے گئے ہیں یازیرتحویل ہیں۔

فلسطینی پریزنرس کلب کی جانب سے 10ڈسمبر کے روز شائع ایک رپورٹ کے بموجب مذکورہ اسرائیلی مقبوضہ دستوں نے 6500کے قریب فلسطینیوں گرفتار کیاہے جس میں خواتین او ربچے دونوں شامل ہیں۔ مذکورہ کلب کا کہنا ہے جیل میں قیدی بنائے گئے 153عورتیں اور 811بچوں ہیں جس میں سے بعض کو رہا بھی کیاگیاہے۔

اڈا میر کے بموجب500فلسطینیوں کو اس سال ہر ماہ گرفتار کیاگیا ہے اور 4760فلسطینی اب بھی اسرائیل کی 23جیلوں تحویلی اورتحقیقاتی مراکز میں ہیں‘جس میں 33خاتون قیدی‘ 160بچے اور 820ایڈمنسٹرٹیو تحویلی ہیں۔

پریزنرس کلب نے یہ بھی اشارہ دیاہے کہ 600بیمار قیدی ہیں جس میں 24کو کینسر اور ٹیومرس ہیں جس قابل تشویش سطح پر ہے۔ایسے 10فلسطینیوں کی نعشیں جس کی موت اسی سال ہوئی ہے اب بھی اسرائیل کی تحویل میں ہیں۔

ان میں ناصر احامد کی بے جان لاش بھی شامل ہے جس کوقابض فوج نے ایک ریفریج ریٹر میں رکھا ہوا ہے۔بنیادی حقوق کے مطالبے کے لئے بھوک ہڑتال کو ایک پرامن اورجائزذریعہ کے طور پر طویل عرصہ سے استعمال کیاجارہا ہے۔

سال2022میں فلسطینی قیدیوں کے کلب نے مظاہروں کی بڑھتی تعداد کو دستاویزی شکل دی‘ جس میں 50نظر بندوں نے بھوک ہڑتالیں کی ہیں۔ جن میں سے اکثر کی صحت کے مستقل نتائج یا زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

کمیشن برائے ڈیٹینیس اور سابق ڈیٹینیس امور کی 26ڈسمبر کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیل کی مقبوضہ فوج نے 2022میں 600فلسطینی بچوں کو نظر بند کردیا۔فلسطینی اتھاریٹی برائے ڈیٹینیس اور سابق ڈیٹینیس امورنے کہا ہے کہ اس کی شروعات سے ایڈمنسٹرٹیو تحویلی احکامات نومبر کے اختتام تک 2050تک پہنچ گئے ہیں


بے گھر فلسطینی
زیتوں کے درختوں کو مقبوضہ او راس کے باز آبادکاروں کی جانب سے اکھاڑنے میں 13130کے علاوہ کئی فلسطینی ان کے گھر منہدم کرنے اور مکانات چھین لئے جانے کی وجہہ سے بے گھر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے او سی ایچ اے کی28ڈسمبر کو منظرعام پر آنے والی رپورٹ کے بموجب 2022کے گیارہ مہینوں میں اسرائیل نے 851فلسطینیوں کے اپنے مکانات منہدم کئے ہیں اور966فلسطینیوں کو بے گھر کیاہے۔

بازآبادکاری کی نگرانی کرنے میں مہارت رکھنے والے ”اے آر ائی جے“انسٹیٹیوٹ کے مطابق‘ اسرائیل نے 2022کے آغاز سے اکتوبر تک 13000سے زیادہ آبادکاری یونٹس کے ساتھ فلسطینی اراضی کے 9700کو نشانہ بناتے ہوئے 116بازآبادکاری کے منصوبوں کو منظوری دی ہے۔

اکٹوبر18کے روز اسرائیل نے ایک معروف فلسطینی فرانسیسی انسانی حقوق کے وکیل صالح حموری کی یروشلم رہائش ختم کرکے فرانس واپس لوٹادیاتھا۔

اسرائیل کی وزرات داخلہ نے 1995سے آج کی تاریخ تک 13,000فلسطینیوں کو یروشلم کے رہائشی کی حیثیت سے ریڈنسی جاری کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اسرائیل کے نیوز پیپر ہارتیز نے 30نومبر کے روز انکشاف کیاکہ اسرائیل لینڈ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے انخلاء کی نوٹس ملنے کے بعد مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اپنے ہی گھروں میں دھمکوں کی دھمکیوں کا کم ازکم 30فلسطینی خاندان سامنا کررہے ہیں


اہم واقعات
مئی 11کے روز اسرائیلی دستوں نے الجزیرہ کی نمائندہ شیرین ابو عقیلہ کا قتل کیا اور علی ال سامودی نامی صحافی کواس وقت زخمی کیاجب وہ جنین کیمپ میں ہنگامہ آرائی پر رپورٹنگ کے لئے وہاں موجود تھے


اگست5کے روز مقبوضہ اسرائیل نے غازہ پر اپنی پانچویں جنگ مسلط کی اور کم ازکم49فلسطینیوں کو ہلاک کیاجس میں 17بچے شامل تھے اور القدس برگیڈ کے اہم فوجی قائدین کونشانہ بنایاتھا۔

سال 2022میں مغربی کنارے میں اہم رحجان جنین اور نابلس کے شمالی شہروں میں تعینات چھوٹے مسلح مزاحمتی دھڑوں کی توسیع تھی۔