چند دن افریقہ کے ایک ملک ملاوی میں (2) از قلم: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
ملاوی میں اگرچہ مسلمانوں کی کافی تعداد ہے؛ لیکن پارلیامنٹ میں تعداد کے لحاظ سے ان کی نمائندگی کم ہے، پھر بھی دس فیصد مسلمان ارکان پارلیامنٹ ہیں، کیبنیٹ میں
ملاوی میں اگرچہ مسلمانوں کی کافی تعداد ہے؛ لیکن پارلیامنٹ میں تعداد کے لحاظ سے ان کی نمائندگی کم ہے، پھر بھی دس فیصد مسلمان ارکان پارلیامنٹ ہیں، کیبنیٹ میں
کسی کام کو کرنے سے پہلے اس کا پروگرام بنانا، اہداف و مقاصد طے کرنے کے ساتھ طریقہٴ کار اور وسائل متعین کرنا، اس کے فوائد و نقصانات
بلقیس بانو کو انصاف … سپریم کورٹ پائندہ باد نامکمل مندر کے افتتاح میں عجلت کیوں ؟ رشیدالدینکسی بھی عمارت یا پراجکٹ کے افتتاح کا اعلان کیا جائے تو مطلب
پی چدمبرم(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس) بلقیس بانو کیس جس بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا اس بارے میں جان کر سن کر اور پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے
ظفر آغا ابھی حال کا ذکرہے کہ دہلی کے مشہور انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں اردو اور ہندی زبان کے تعلق سے ایک ٹاک شو منعقد ہوا۔ اس ٹاک شو کے
روش کمارآج کل بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اس فیصلہ کے کافی چرچے ہیں ۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت
رام چندر گوہاہندوستانی سوشلسٹ روایت اب دم توڑچکی ہے۔ با الفاظ دیگر ایک طرح سے وہ اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے لیکن ایک ایسا بھی دور اور وقت تھا
اجئے کمارسال2023 ختم ہوچکا ہے اور سال 2024 میں ہمارا وقت کیسے گذرے گا ، ہماری زندگیوں میں خوشحالی ہوگی یا نہیں ہوگی، ہماری جیبوں میں پیسہ ہوگا یا نہیں
وسطی افریقہ کا ایک ملک ملاوی ہے، جس کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ بتلائی جاتی ہے، رقبہ لمبائی میں 600؍ کیلو میٹر اور چوڑائی میں 200؍ سو کیلو میٹر
ہمارے عقیدے میں ہر وہ خیال جو قرآن کے سوا کسی تعلیم گاہ سے حاصل کیا گیا ہو ایک کفر صریح ہے۔ افسوس کہ لوگوں نے اسلام کو کبھی
ایک بہتر اور پُر امن سماج کی تشکیل کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد عدل و انصاف پر ہو ، انصاف کے ذریعہ نہ صرف لوگوں کو ان
اسلام کے نظامِ وراثت پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں ان میں سے ایک اہم اعتراض یہ ہے کہ اس میں یتیم پوتے کو محروم رکھاگیاہے۔ یہ اعتراض کرتے
CAA …ہندوتوا کا نیا شوشہ رام مندر کے نام پر کشیدگی کی سازش رشیدالدینسی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کا جنون پھر مودی حکومت پر سوار ہوچکا ہے۔ قانون سازی
پی چدمبرم(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس) یہ کیلینڈر 2024 ء میں میرا پہلا کالم ہے اور میں پھر سے قارئین کی خدمت میں سال نو کی مبارکباد پیش کرتا
محمد ریاض احمدہمارا وطنِ عزیز ایک عظیم ملک ہے جو علم و ادب، تہذیب و تمدن خاص کر گنگا جمنی تہذیب کا گہوار ہے اور ہم تمام ہندوستانیوں کی یہ
رام پنیانیجب ہندوستان نے آزادی حاصل کی اس کے بعد ہمارے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے جو تقریر کی ساری دنیا میں اس تقریر اور
کریتیکا شرماخواتین کو معاشی ترقی میں حصہ دار بنانے سے ان کے کنبوں اور ان کے طبقات کی زندگیوں پر واضح اثر پڑ سکتا ہے اور اس سے پائیدار ذریعہ
ظفر آغا یہ ذکر ہے جنگ آزادی کے دور کا۔ جواہر لال نہرو ولایت سے وکالت کی ڈگری حاصل کر کے واپس وطن الٰہ آباد آچکے تھے اور واپس آتے
روش کمارہندوستان میں حکومتیں چاہے وہ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ہوں کئی اسکیمات اور پروگرامس بناتی ہیں، یہ اسکیمات عوام کیلئے مفید ہوں یا نہ ہوں‘ ان سے
دوسری طرف مختلف جہتوں سے ہندو مذہبی افکار اور تہواروں کا تقدس سرکاری طور پر ذہن میں بٹھایا جا رہا ہے، اسکولوں میں مشرکانہ ترانہ وندے ماترم پڑھنے پر زور