بھارت جوڑو یاترا
کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیںبارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا آج آغاز ہونے والا ہے۔
کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیںبارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کا آج آغاز ہونے والا ہے۔
اُن کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیںمیرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے گذشتہ چند ہفتوں سے قومی سیاست کا رنگ بدلا جارہا ہے۔ سیاسی لڑائی کو ایک
نزدیک اس جہاں سے جہانِ عدم نہیںرستہ ہے عمر بھر کا قدم دو قدم نہیں دنیا بھر میں کئی ممالک معاشی مشکلات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک
اور ہونگے جن کو ہوگا چاکِ دامانی پہ نازہم جنوں میں چاکِ داماں کو رفو کرتے رہےراہول کی بھارت جوڑو یاتراکانگریس لیڈر راہول گاندھی 7 ستمبر سے بھارت جوڑو یاترا
کوئی خیال کوئی خواب بُن کے آؤ نامیں خود سے روٹھ گئی ہوں مجھے مناؤ نا ملک میں حکومت کی جانب سے مخالفین اور سماجی کارکنوں اور جہد کاروں کے
کیوں ان کے ماتھے پہ شکن ہےکیا وہ مجھے پہچان گئے ہیں تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کل جس وقت بہار کا دورہ کیا اور وہاں
ہندوستان کو نفرت کے ماحول میںڈھکیلا جا رہا ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے ۔ زر خرید میڈیا کے تلوے چاٹنے والے
چڑھتا سورج بتارہا ہے مجھےبس یہیں سے زوال ہے میرا کانگریس کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد جب راجیہ سبھا سے سبکدوش ہو رہے تھے سبھی نے ان کو بدیدہ
ملک بھر میں مختلف ریاستوں کی بی جے پی حکومتوں کی جانب سے شعبہ تعلیم کو نشانہ بنانے کا سلسلہ مرکز میں مودی حکومت کی پہلی معیاد ہی سے شروع
ویسے تو بی جے پی کی جانب سے ملک بھر میں اور کئی ریاستوں میں کرپشن سے پاک حکومت فراہم کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور
ہوئے ہم جو مرکے رُسوا ، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کہیں جنازہ اُٹھتا ، نہ کہیں مزار ہوتاکانگریس ‘ ایک اور لیڈر کا استعفیٰملک کی سب سے قدیم سیاسی
نئے کردار آتے جا رہے ہیںمگر ناٹک ‘ پرانا چل رہا ہے عوام کا یہ تاثر حقیقی اندیشوں کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کہ جیسے جیسے کسی ریاست
جس وقت سے مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے اس وقت سے ملک میں جمہوریت کے معنی بدل کر رہ گئے ہیں۔
ہندوستان میں مذہبی جذبات کو اس حد تک مشتعل کردیا گیا ہے اور عوام کے ذہنوں میں اس قدر زہر انڈیل دیا گیا ہے کہ انہیں سوائے فرقہ پرستی کے
ہر چہرہ بے حسی کی علامت ہے آج کلپتھر تراشنے کی ضرورت نہیں رہی ریاست تلنگانہ میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔ منگوڑ اسمبلی حلقہ سے ریاست کے سیاسی
جیسے جیسے ملک کی چند ریاستوں اور پھر 2024 میںعام انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان کی تیاریوں کا آغاز کردیا
کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوستسب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیامرکزی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے قائدین اور جماعتوں کو نشانہ بنانے کا
مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں برسر اقتدار بی جے پی کی جانب سے آئندہ مرحلہ کے انتخابات کی تیاریاںشروع کردی گئی ہیں۔ سال 2024 میں ہونے والے پارلیمانی
بی جے پی نے اپنے اعلی ترین پالیسی ساز ادارہ سے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے علاوہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کو بھی خارج کردیا ہے ۔
بی جے پی میں آج تنظیمی رد و بدل کیا گیا ہے ۔ اس رد و بدل کے ذریعہ پارٹی نے ایک پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ جس