شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

یاور علی محورؔ مطلق العنانی…! دھن کی دولت کی فراوانی ہے کوئی راجا ہے کوئی رانی ہے نام جمہوریت کا ہے لیکن ہرجگہ مطلق العنانی ہے ………………………… حسن قادری بیگم

شیشہ و تیشہ

اشفاق جانی چھپن انچ…!! کوئی مغرور ہوجائے یہ کب اُس کو گوارا ہے تکبر کی بلندی سے بھی ذلت سے اُتارا ہے جو چھپّن انچ کا سینہ بتاتا ہے زمانے

شیشہ و تیشہ

احمدؔ قاسمی سیاست کا نشہ…! مفلسی غربت حرارت کا نشہ بھوک مہنگائی قناعت کا نشہ مسند و کرستی وزارت کا نشہ مطلبی بھونڈی قیادت کا نشہ شہریت ترمیم اور این

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ فوٹو …!! دنیا ہے چار روزہ رہنا سنبھل سنبھل کے مکّاریوں سے آؤ باہر نکل نکل کے شہرت کی چوٹیوں پر جانے کی ہے تمنا فوٹو

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ رنگ لے کے آئیں گی …! بُرے ہیں ارادے بُری ہیں نگاہیں ظالم نے چُن لی ہے ایسی ہی راہیں انجام اُس کا بھی دیکھے گی

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ باری تیری بھی آئیگی …!! ہو بھلا کام تو سبھی کے لئے یہ نہ ہونا کسی کسی کے لئے باری تیری بھی آئیگی اک دِن موت

شیشہ و تیشہ

قطب الدین قطب ؔ دادا کی بارات …! اُس زمانے کے قلم و دوات کہاں سے لائیں دادا پردادا کے کاغذات کہاں سے لائیں ہے کوئی جو سمجھائے اس ناداں

شیشہ و تیشہ

جھانپڑ شمس آبادی دیمک…!! حرص کی لگتی ہے جس وقت سخن کی دیمک خود ہی فنکار لگا لیتا ہے فن کی دیمک کیڑے کھا جاتے ہیں دلہے کو پریشانی کے

شیشہ و تیشہ

محمد امتیاز علی نصرتؔ گھر واپسی …! چُھپ کر نہ کرو ڈھونگ سرعام میں آؤ سازش نہ رچو امن کے پیغام میں آؤ گر چاہتے ہو اصل میں گھر واپسی

شیشہ و تیشہ

عبدالباری چکر ؔ نظام آبادی جدید فیشن شارٹ لینت پوشاک میں بچوں کو اکڑتے دیکھا ان کی پتلون کو کمر سے سرکتے دیکھا بے حیائی کا یہ فیشن عجب ہے

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود زبانِ غیر…! کبھی نہ زیر کیا نقطہ ہائے بالا کو ہمیں پسند نہ آیا کہ تُو کو یُو کرتے کبھی لکھی نہیں درخواست ہم نے انگلش میں ’’

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود بیچ اِس مسئلے کے ! جو ہے اوروں کی وہی رائے ہماری بھی ہے ایک ہو رائے سبھی کی یہ کچھ آسان نہیں لوگ کہتے ہیں فرشتہ ہیں

شیشہ و تیشہ

فرید سحرؔ معجون تبسم …!! جب بُڑھاپا سوار ہوتا ہے باپ بیٹے پہ بار ہوتا ہے پُھول جس کو کبھی سمجھتے تھے اب وہ کیکر کا خار ہوتا ہے کیسے

شیشہ و تیشہ

ظریف لکھنوی یاد کرتے ہیں …!! ترے کپڑوں کی لادی لادنا جب یاد کرتے ہیں تو اکثر شب کو دھوبی کے گدھے فریاد کرتے ہیں یہ مجنوں کوہکن تو جس

شیشہ و تیشہ

مرزا فاروق چغتائی بھکاری …!! ووٹ ملنے تک یہ مسکین ہے پھر دیکھئے جنتا کو نچاتا ہے لیڈر وہ مداری ہے مل جائے جو کرسی تو بن جائے یہ فرعون

شیشہ و تیشہ

مرزا فاروق چغتائی عادت …!! وعدہ کرنے میں کیا قباحت ہے یہ الیکشن کی ایک حاجت ہے لوگ بھی جانتے ہیں سب کچھ، اور بھول جانا تو میری عادت ہے

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود رابطہ کتاب سے ہے عزیزوں کا رابطہ قائم وہ اِس سے اب بھی بہت فائدہ اٹھاتے ہیں کبھی کلاس میں آتے تھے ساتھ لے کے اسے اب امتحان

شیشہ و تیشہ

مزمل گلریزؔ آج بھی ہے …!! اچھے دنوں کا انتظار آج بھی ہے پچاس ہزار کیلئے سبھی بیقرار آج بھی ہے پہلے جو کھاتے تھے اس میں نہیں کوئی تبدیلی

شیشہ و تیشہ

ْجھانپڑؔ شمس آبادی غزل…! نیّا ہمارے دیش کی ڈوبی ہوئی ملے نیتا ہمارے دیش کو سب کنتری ملے سُسرال میں ہے میری تواضع کچھ اس طرح باسی کڑی ملے کبھی

شیشہ و تیشہ

سید اعجاز احمد اعجازؔ شادی کے بعد …!! میاں بیوی میں وہ محبت نہیں ہے ہوئے جو پرانے تو چاہت نہیں ہے اکیلے تھے جب تو تھے آزاد ہم بھی