جے این یو سیڈیشن کیس معاملے پر قانونی کاروائی کولے کر منظوری پر دہلی اسمبلی کے پہلے روز ہوا ہنگامہ

,

   

بی جے پی کے چار اراکین اسمبلی نے چیف منسٹر اروند کجریوال سے اس بات کی جانکاری کا مطالبہ کیاکہ دہلی پولیس کی جانب سے قانونی کاروائی کے لئے مانگی گئی اجازت کومنظوری دینے میں’’ تاخیر ‘‘ کے پس پردہ وجوہات کیاہیں

نئی دہلی۔جمعہ کے روز دہلی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے پہلے دینے بی جے پی کی جانب سے جے این یو کیس میں قانونی کاروائی کے لئے درخواست کامسئلہ اٹھایاگیا‘ جس عام آدمی پارٹی حکومت کے زیر التوا ہے

۔بی جے پی کے چار اراکین اسمبلی نے چیف منسٹر اروند کجریوال سے اس بات کی جانکاری کا مطالبہ کیاکہ دہلی پولیس کی جانب سے قانونی کاروائی کے لئے مانگی گئی اجازت کومنظوری دینے میں’’ تاخیر ‘‘ کے پس پردہ وجوہات کیاہیں۔

اس کیس میں سیڈیشن کے الزامات سابق جے این یو ایس صدر کنہیاکمار اور دیگر کے خلاف درج ہیں کیونکہ مبینہ طور پر ان لوگوں نے 9فبروری2016کے روز پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے افضل گروکی برسی کی ایک تقریب کے دوران مخالف ملک نعرے لگائے تھے

۔چارج شیٹ داخل کرنے کے لئے دہلی پولیس نے تین سال لگائے ‘ مگر منظوری کے بغیرعدالت نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیاتھا۔ اس کیس میں ایک مقامی عدالت نے 28فبروری کے روز سنوائی مقرر کی ہے۔

بارہا استفسار کے باوجود اسپیکر رام نیواس گوئیل کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے والے مذکورہ اراکین اسمبلی کو مارشل کے خدمات حاصل کرتے ہوئے ایوان سے باہر پھینک دیاگیا‘ اسپیکر نے انہیں سمجھانے کی بارہا کوشش کی کہ وہ لفٹنٹ گورنر انل بیجل کی تقریر میں رکاوٹیں کھڑا نہ کریں

۔بعدازاں اپوزیشن لیڈر وجیندر گپتا نے کہاکہ بیجل کی موجودگی میں مسئلہ اٹھانے کا مقصد ہی چیف منسٹر کا ایل جی کی موجودگی میں ردعمل تھا۔

درایں اثناء اپنے تقریر کے دوران جو حسب روایت تھی ‘ ایل جی نے عام آدمی پارٹی حکومت کی مختلف شعبہ حیات میں کامیابیوں کا تذکرہ کیا‘ جو تعلیم ‘ صحت‘ پبلک انفرسٹچکر‘ اور خواتی کی حفاظت کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی اس میں شامل تھی