’ انڈیا ‘ اتحاد اور بی جے پی کی الجھن
ہم ہیں وفا شعار وفاؤں کا ہیں نشاںوہ بے وفا ہیں، ہم سے جو رہتے ہیں بدگماںآئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے جو اتحاد تشکیل دیا ہے اس
ہم ہیں وفا شعار وفاؤں کا ہیں نشاںوہ بے وفا ہیں، ہم سے جو رہتے ہیں بدگماںآئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے جو اتحاد تشکیل دیا ہے اس
ملک میں صرف تین برس کے عرصہ میں 13 لاکھ سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں لاپتہ ہوگئی ہیں۔ یہ تعداد 2019 سے 2021 کے درمیان کی ہے ۔ یہ تعداد
آج یوم عاشورہ ہے ۔ آج ہی کے دن نواسہ رسول ﷺحضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کو میدان کربلا میں شہید کردیا گیا ۔ نواسہ رسول ؐ امام عالی
منی پور میں پیش آئے انتہائی شرمناک اور افسوسناک واقعہ کے بعد سارے ملک میں غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ سارے ملک کے عوام اس
جمہوری طرز حکمرانی میں حکومت اوراپوزیشن میں نظریاتی اختلافات فطری بات ہیں۔ حکومت کا اپنا کام کرنے کا انداز ہوتا ہے تو اپوزیشن کی رائے اس سے مختلف ہوتی ہیں۔
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیںملک کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں گذشتہ تین ماہ سے تشدد کا سلسلہ
زندگی کا واسطہ ہے آج یوں انسان سےابرکا رشتہ ہو جیسے کوئی ریگستان سےتلنگانہ میں انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے ۔ بمشکل چند ماہ انتخابات کیلئے رہ
جیسے جیسے آئندہ پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آتا جا رہا ہے بی جے پی کی جانب سے ہر ہر ریاست پر توجہ دی جانے لگی ہے اور جب سے
آج کے دور کی تاریخ جسے لکھنی ہواس سے کہہ دو کہ قلم خوں میں ڈبو کر آئےملک کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں دو خواتین کو برہنہ کرکے
کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بری طرح سے شکست کھانے اور ایک طرح سے اپنے وجود کا احساس دلانے میں ناکام ہوجانے کے بعد جنتادل سکیولر نے بھی اپنا حقیقی چہرہ
شمال مشرقی ریاست منی پور گذشتہ کئی ہفتوں سے جل رہی ہے ۔ وہاں قبائلی اور نسلی تشدد نے بے تحاشہ تباہی مچائی ہے ۔ وہاں ایسے واقعات پیش آئے
ملک کی پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات سے شروع ہونے والا ہے ۔ حکومت اس سشن میں کئی اہم بلز پیش کرنے اور ان کی منظوری حاصل کرنے کا منصوبہ
ہم نہ موسیٰ ہیں نہ فرعون کا لشکر پیچھےپھر بھی چڑھتے ہوئے دریا میں اترجاتے ہیںانڈیا بمقابلہ این ڈی اےملک میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے اب صفیں بنتی جا رہی
ٹوٹ جائے نہ کہیں پھر یہ بھرم اشکوں کادوست بھی لے کے عجب شکل و شباہت آئےملک کی تقریبا دو درجن جماعتوں کے اپوزیشن قائدین آج بنگلورو پہونچ چکے ہیں
ملک میں آئندہ پارلیمانی انتخابات کیلئے حالانکہ ابھی اچھا خاصا وقت ہے اور اس سے قبل ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں لیکن سیاسی صف بندیوں
ملک میں کسی بھی مسئلہ کیلئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بیان بازی کرنے کی روایت عام ہوتی جا رہی ہے ۔ کئی گوشوں سے مسلمانوں کو
تلنگانہ میں سیاسی ماحول میں گرمی پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ جس وقت سے کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے ہیں اس وقت سے تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں
ویسے تو ہندوستان میں مانسون کے دوران کسی نہ کسی ریاست اور کسی نہ کسی شہر میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے ۔ شدید بارش کی وجہ سے تالابوں
ملک میں آئندہ سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کے ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اجلاس 18 جولائی کو نگلورو میں ہونے والا ہے ۔ ان جماعتوںک ا
اس دور میں دیکھا یہی گلزار کا معیارجو پھول ہے رکھتا ہے وہی خار کا معیاربنگال ‘ ممتابنرجی کا غلبہ برقرارمغربی بنگال میں ضلع پریشد ‘ پنچایت سمیتی اور گرام