قرآن ی تعلیمات پر مل کر کے دنیا میں امن پیدا کیا جاسکتا ہے۔ مولانا سید صہیب حسینی ندوی
لکھنؤ (پریس ریلیز) قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ آخری کتاب ہے جو ایک مکمل اسمانی دستور حیات ہے اور عبرت وحکمت کا خزانہ ہے جس کی روشنی میں رہ
لکھنؤ (پریس ریلیز) قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ آخری کتاب ہے جو ایک مکمل اسمانی دستور حیات ہے اور عبرت وحکمت کا خزانہ ہے جس کی روشنی میں رہ
اللہ تعالی تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے دُور کردے پلیدی کو اے نبی کے گھر والو! اور تم کو پوری طرح پاک صاف کردے۔ (سورۃ الاحزاب۔۳۳) اللہ تعالی
اہل بیت کی مثال کشتی نوح ؑ کی طرح ہے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي ﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي
… گزشتہ سے پیوستہ … اگر تند و تیز ہوائیں ساری زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں، تب بھی اﷲ کے مقبول بندوں کا چراغ بجھتا نہیں ،
اصلاح معاشرہ کے کام میں باشعور دیندار خواتین بہت عمدگی سے اپنا حصہ ادا کرسکتی ہیں، بلکہ معاشرہ میں نمودار ہونے والے مختلف غلط رُجحانات ایسے ہوتے ہیں، جنھیں خواتین
موجودہ دور مادی وسائل حیات میں عروج ،زندگی کے ہر شعبہ میں تیزرفتارترقیات کاہے،اتصالات ومواصلات کی برق رفتاری نے ساری دنیا کو ایک دوسرے سے مربوط کردیاہے،دوردرازملکوں میں آباد اقرباء
مولوی حافظ سید شاہ مدثر حسینی نبیرہ حضرت سید محمد شاہ صاحب قبلہؒ حضرت سید محمد شاہ ہاشم حسینی المعروف حضرت محمد شاہ ؒ کی ولادت ۱۲۴۵ ہجری بمقام بیدر
سید محمد الحسینی قادری قطب دکن حضرت حافظ سید عبداﷲ شاہ قادری شہید قدس سرہ العزیز شیخ الشیوخ حافظ سیدنا شجاع الدین حسین قادری قدس سرۃ العزیز کے خلف صاحبزادے
سید علی محی الدین قادری عاکف بادشاہ زرین کلاہ حضرت سید مہدی بادشاہ قادری زرین کلاہ حضرت سید محی الدین بادشاہ قادری زرین کلاہ ؒ کے صاحبزادے تھے ۔ آپؒ
تمام انبیاء کرام علیھم السلام حسن اخلاق اور اعلیٰ کردار کے جامع نمونہ تھے جن سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو ہمیشہ اخلاق اور اعلیٰ کردار کی رہنمائی حاصل ہوتی رہی
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان میں فی زمانہ ایک مسلمان، غیر مسلم کمپنی کو روپیہ دے کر اس سے زائد رقم لینا سود
سانحہ کربلا کے وقت اور اس کے فورا بعد بہت سے ایسے واقعات رو نما ہوئے جن کا ذکر کتب تاریخ اور کتب روایات میں ملتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث
محمد خورشید اختر صدیقی ، بیدر واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سانحہ ہے جو ۱۰ محرم الحرام ۶۱ ہجری کو واقع ہوا ۔ حضرت امیر معاویہؓ کے انتقال
قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری شبِ عاشور‘ سیدالشہدا‘ سبطِ رسول اللہ حضرتِ امام عالیمقام نے عبادت الٰہی میں گذاری رات کے پچھلے پہر آپ پر استغراق کی کیفیت طاری
اللہ کا فضل ہے کہ میں ایران کے تہران میں گیا انکے دارلخلافہ میں گیا جو ایران کا مرکز ہے اور میں وہاں ڈھکے کی چوٹ پر حضرات ابوبکر، عمر،
اور ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ جو قتل کئے گئے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس (اور) رزق
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي اللہ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلي اللہ عليه وآله وسلم : إِنِّي تَارِکٌ فِيْکُم مَا إِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِي أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ
محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی واقعہ کربلا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ، خانوادۂ نبوت پر ڈھائے گئے ظلم وستم سے دل کے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ حضرت
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم مدینہ طیبہ رونق افروز ہوئے تو انصار نے دیکھا کہ آپ کے ذمہ
…گزشتہ سے پیوستہ … شیطان کو ناکام و نامراد کرکے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمعٰیل ؑ قربان گاہ پہنچتے ہیں۔ اب قربانی کی کیفیت اور ابراہیمؑ اور اسمعٰیل کی فائزالمرامی