جامعہ کے طالب علم پولیس کاروائی میں جس کے ایک انکھ کی بینائی چلی گئی’یہاں پر آکر غلطی کی‘۔
منہاج الدین ایک ایل ایل ایم کے طالب علم ہیں‘ اب وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنے آبائی مقام بہار میں واپس چلے جاناچاہتے ہیں کیونکہ یہاں پر
منہاج الدین ایک ایل ایل ایم کے طالب علم ہیں‘ اب وہ اپنی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اپنے آبائی مقام بہار میں واپس چلے جاناچاہتے ہیں کیونکہ یہاں پر
شدید سردی اور شہر ت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج پر پولیس کی کاروائی کا خوف اور اپنے ساتھیوں کے خلاف کیمپس میں ہوئی کاروائی کے باوجود جامعہ ملیہ کے
بنگلورو۔سارے ملک میں شہریت ترمیمی ایکٹ اور امکانی این آر سی کے خلا ف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ طلبہ اور عام شہریوں کے ساتھ پولیس کی جھڑپوں‘ تصادم کے
وائیر ل د ویڈیوز میں پولیس کو بندوق لہراتے دیکھا جاسکتا ہے‘ گولیوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں‘ جبکہ احتجاج کرنے والے ایک فرد گولی لگنے کے بعد
نیا شہریت قانون مسلمانوں کے خلاف امتیاز ی سلوک ہے نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کی جانب سے 12ڈسمبر کے روز پیش کئے گئے امتیازی
سناکشی سنہا اور ایشان کھٹر کے عالیہ بھٹ نے دستور ہند کا اقتباس کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے بالی ووڈ کے ان ستاروں میں شامل ہوگئی ہیں جنھوں نے قومی
مذکور ہ طلبہ جو حکومت کے شہریت ترمیمی ایکٹ2019کے خلاف احتجاج کررہے ہیں‘ جس میں ان پناہ گزین کو شہریت فراہم کی جارہی ہے‘ اور یہ شہریت پاکستان‘ بنگلہ دیش
بنگلورو۔ تعلیمی اداروں میں ہم آہنگی کو فروغ دینا نہایت اہم اور حساس مسلئے ہے تاکہ قوم کی تعمیر میں یہ کام موثر ثابت ہوسکے‘ وہیں مذکورہ ملک میں ایودھیا
طلبہ کے ہاتھوں میں مہاتماگاندھی او ربی آر امبیڈکر کے پوسٹرس تھے‘ پولیس ہیڈکوارٹرس کے باہر اکٹھا ہوئے اور وکاس مارگ کی سڑک جام کردی اور نعرے لگارہے تھے‘ جس
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تاریخ کی ایک طلبہ 22سالہ عائشہ رانا اور 22سالہ لادیدا ساکھالون جو بی اے عربی کی طالب علم ہیں ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے
نئی دہلی۔ اتوار کے روز مذکورہ پریس انفارمیشن بیورو نے اس کے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ کئے گئے ذاتی ٹوئٹ پر ناراضگی ظاہر کی جس میں دہلی پولیس کے
ہفتہ کے رو ز بھی احتجاج کا سلسلہ ہنوز جاری رہا‘ مگر اس کی شدت کم تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میٹرو اسیٹشن داخلہ کے لئے بند رہا اور کچھ گھنٹوں
ہفتہ کی دوپہر سینکڑوں کی تعدادمیں لوگ دہلی کے جنتر منتر پر اکٹھا ہوئے تاکہ شہریت ترمیمی ایکٹ‘ اور امکانی این آرسی کے خلاف احتجاج کرسکیں۔ منتظمین کا کہنا ہے
میرے گھر کے سامنے ایک طوفان کا میں عینی شاہد ہوں۔ تین ہزار جامعہ کے طلبہ سڑک پر سی اے بی کے خلاف احتجاج کررہے تھے‘ سی اے بی جو
نئی دہلی۔جب شہریت ترمیم بل منظور کیاگیا‘میں ہاسٹل میں تھا’اس رات بہت سارے طلبہ ہاسٹل کے باہر جمع ہوگئے اور جامعہ کی گرلز ہاسٹل کی طرف مارچ کیا۔ لڑکیاں بھی
طلبہ اوراساتذہ کے گروپس او ریونین نے بل کو ”غیر ائینی“ اور ملک کے سکیولر ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والا قراردیاہے علی گڑھ۔ وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو)
مذکورہ احتجاج شمال مشرق میں سی اے بی کے”نفاذ“ کے خلاف تھا جس کی وجہہ سے ”غیر قانونی بنگلہ دیشوں“ کے لئے سیلاب کی شکل میں آنے کا راستہ کھول
مذکورہ بل کے ذریعہ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور افغانستان کے غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی جنھیں مذہبی بنیاد پر امتیاز کاسامنا ہے۔ اس میں تجویز
مذکورہ پوسٹ بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے موقع پر احتجاج کے پیش نظر تھا علی گڑھ۔ایف ائی آر کے مطابق مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے دو طلبہ کو
نئی دہلی۔درالحکومت دہلی میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) طلبہ کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر یونین ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ (ایچ آر ڈی) منسٹری کے باہر بھاری تعداد میں